پی ٹی آئی کو بڑا دھچکا: دو اہم رہنماؤں نے پارٹی عہدوں سے استعفیٰ دے دیا

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما عمر ایوب خان اور شبلی فراز نے پارٹی کی سیاسی کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے اپنے استعفے سے متعلق سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کو آگاہ کیا۔

قبل ازیں خبریں سامنے آئی تھیں کہ عمر ایوب خان نے پارٹی کی پولیٹیکل کمیٹی میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے، جس پر پارٹی میں اندرونی اختلافات کی افواہیں گردش کر رہی تھیں۔

عمر ایوب خان نے اپنے بیان میں کہا کہ قانونی اور سیاسی مصروفیات کی وجہ سے پولیٹیکل کمیٹی میں مؤثر کردار ادا کرنا ان کے لیے ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ کمیٹی کی رکنیت صرف موجودہ پارٹی عہدیداران تک محدود ہونی چاہیے اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو پولیٹیکل کمیٹی میں شامل کیا جانا چاہیے۔

سینئر رہنما نے مزید کہا کہ وہ ہمیشہ سے بانی چیئرمین عمران خان کے وفادار کارکن رہے ہیں اور رہیں گے، تاہم پارٹی کے اندر فیصلے ادارہ جاتی اور باقاعدہ انداز میں ہونے چاہئیں۔

انہوں نے زور دیا کہ پارٹی کو درپیش موجودہ چیلنجز کے پیش نظر ذمہ داریوں کی واضح تقسیم ضروری ہے تاکہ تنظیمی اور پارلیمانی امور کو بہتر انداز میں چلایا جا سکے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق سیاسی کمیٹی میں رہنماؤں کی یہ رائے اور استعفیٰ پارٹی کے اندر موجود اختلافات کو ظاہر کرتا ہے اور آئندہ اجلاسوں میں مزید بحث متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی کور کمیٹی کا اجلاس: اندرونی کہانی پختون ڈیجیٹل نے حاصل کر لی

جبکہ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کور کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں پارٹی کے اندرونی اختلافات اور اراکین کی برہمی کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

پارٹی ذرائع کے مطابق اجلاس میں کئی اہم معاملات پر لفظی جھڑپیں بھی ہوئیں اور کور کمیٹی کے کچھ فیصلوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان نے 8 فروری کو خیبرپختونخوا بند کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم پارٹی کی جانب سے اس پر کوئی واضح لائحہ عمل ابھی تک سامنے نہیں آیا، جس پر اراکین نے شدید برہمی ظاہر کی۔

اجلاس میں سوال اٹھایا گیا کہ خان صاحب کے راستے بند کرنے کے حکم پر اب تک کیا پیش رفت ہوئی اور ان کے احکامات ہر عمل کیوں نہیں ہو رہے، جبکہ کچھ اراکین نے یہ بھی پوچھا کہ کیا پارٹی حقیقت میں عمران خان کو مائنس تو نہیں کر رہی؟

اجلاس میں یہ بھی بات چیت ہوئی کہ کور کمیٹی کے اجلاس کیوں مقررہ وقت پر نہیں ہو رہے اور آیا پولیٹیکل کمیٹی کی کوئی اہمیت باقی ہے یا نہیں۔ اس پر بھی بعض اراکین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

ذرائع کے مطابق سلمان اکرم راجہ اور بیرسٹر گوہر نے پریس ریلیز میں تبدیلی کی، جس پر کور کمیٹی کے دیگر اراکین برہم ہوئے اور آئندہ اجلاسوں سے بائیکاٹ کا عندیہ دیا۔

اراکین پارلیمنٹ نے کور کمیٹی کی پریس ریلیز میں شمولیت پر بھی تحفظات ظاہر کیے۔

اجلاس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے بھی تفصیلی بات چیت ہوئی اور کور کمیٹی نے تمام ممبران کو اڈیالہ پہنچنے کا حکم دے دیا۔

Scroll to Top