تاریخ رقم، حکومت نے 3,650 ارب کا ملکی قرضہ قبل از وقت ادا کر دیا

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ حکومت نے ملکی قرضے ان کی میچورٹی سے پہلے واپس کرنا شروع کر دیے ہیں۔

گزشتہ 14 ماہ کے دوران حکومت نے مجموعی طور پر 3 ہزار 650 ارب روپے کا ملکی قرضہ قبل از وقت ادا کر دیا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مزید 300 ارب روپے کی تازہ قبل از وقت ادائیگی بھی مکمل کر لی، مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کا کہنا ہے مالی سال 2026 کے ابتدائی 7 ماہ میں 2 ہزار 150 ارب روپے سے زائد قرضہ قبل از وقت ریٹائر کیا گیا جو مالی سال 2025 کے مقابلے میں 44 فیصد زیادہ ہے۔

خرم شہزاد نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کا قرضہ تقریباً 44 فیصد کم ہو کر 5 ہزار 500 ارب روپے سے گھٹ کر 3 ہزار ارب روپے رہ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2029 میں میچور ہونے والا قرضہ بھی سالوں پہلے ادا کر دیا گیا ہے جو حکومت کی مضبوط مالی حکمت عملی کا مظہر ہے۔

قبل از وقت ادائیگیوں میں 65 فیصد حصہ اسٹیٹ بینک، 30 فیصد ٹی بلز جبکہ 5 فیصد پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز پر مشتمل ہے، ان اقدامات کے نتیجے میں مجموعی سرکاری قرضہ 80.5 ٹریلین روپے سے کم ہو کر تقریباً 80 ٹریلین روپے کے قریب آ گیا ہے۔

مشیر وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ قرضہ برائے جی ڈی پی تناسب 74 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 70 فیصد پر آ چکا ہے جبکہ ملکی قرضوں کی اوسط مدت 2.7 سال سے بڑھ کر 4 سال سے زائد ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا صنعتوں کے لئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان

مشیر خزانہ خرم شہزاد کا کہنا ہے مالی نظم و ضبط کے باعث ٹیکس دہندگان کو 850 ارب روپے کی بچت ہوئی جبکہ مالی سال 2026 میں مزید 800 ارب روپے کی بچت متوقع ہے، انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے کم رسک، کم لاگت اور ترقی کے لیے زیادہ مالی گنجائش پیدا ہو گی۔

Scroll to Top