محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے نپاہ وائرس کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر صوبے کے تمام ضلعی ہیلتھ افسران، میڈیکل سپرنٹنڈنٹس اور سرکاری و نجی تدریسی ہسپتالوں کے ڈائریکٹرز کو ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق نپاہ وائرس ایک خطرناک متعدی بیماری ہے جو جانوروں سے انسانوں اور بعض صورتوں میں انسانوں کے درمیان بھی منتقل ہو سکتی ہے، یہ بیماری شدید سانس کی تکلیف اور جان لیوا دماغی سوزش کا سبب بن سکتی ہے۔
محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ بھارت کے مغربی بنگال میں حالیہ دنوں میں نپاہ وائرس کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، پاکستان میں تاحال کوئی کیس سامنے نہیں آیا، اس کے باوجود احتیاطی تدابیر کے طور پر تمام صحت اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد کی رہنمائی کے مطابق بیماری کی نگرانی، بروقت تشخیص، رپورٹنگ، انفیکشن کی روک تھام اور کنٹرول کے اقدامات یقینی بنائے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: کورونا کے بعد پاکستان میں ایک اور نئے وائرس کا خطرہ، نام سامنے آ گیا
مشتبہ کیسز کی فوری اطلاع دینے اور حفاظتی اقدامات پر سختی سے عملدرآمد کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔





