وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگرد سویلینز اور معصوم شہریوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں اور خواتین و بچوں کو اپنی کارروائیوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
وزیر دفاع نے بلوچستان میں جاری سکیورٹی آپریشنز کے دوران ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کی تعداد 100 سے زائد بتائی اور کہا کہ یہ عناصر ملکی دفاتر اور اہم تنصیبات پر حملے کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ دہشتگرد ملکی سالمیت اور امن و امان کے لیے خطرہ ہیں اور ان کی کارروائیاں نہ صرف سکیورٹی فورسز بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی مہلک ثابت ہو رہی ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا’’بلوچستان کا رقبہ بہت وسیع اور آبادی کم ہے، اس کے باوجود دہشتگرد بے شمار لاشیں چھوڑ کر فرار ہو جاتے ہیں۔‘‘ انہوں نے نوشکی اور دالبندین میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملے کا ذکر بھی کیا اور اس پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسنگ پرسن کے حوالے سے پھیلائے جانے والے بیانیے مکمل طور پر غیر حقیقی ہیں اور یہ صرف ایک پروپیگنڈا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دہشتگرد شہری آبادیوں کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں۔
وزیر دفاع نے عوام سے اپیل کی کہ وہ دہشتگردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ ملک کی سلامتی اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بحال کی جا سکے۔





