ریاض: سعودی عرب کی وزارتِ حج و عمرہ نے عمرہ خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے ناقص کارکردگی اور مقررہ معیار پر پورا نہ اترنے والی 1,800 غیر ملکی عمرہ ٹریول ایجنسیوں کے معاہدے معطل کر دیے ہیں۔
خلیجی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ایجنسیاں عمرہ شعبے میں کام کرنے والی مجموعی طور پر تقریباً 5,800 ایجنسیوں کا ایک نمایاں حصہ ہیں۔
وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ باقاعدہ پیریاڈک ایویلیوایشن کے بعد کیا گیا، جس کے دوران متعدد ایجنسیوں کی کارکردگی میں سنگین خامیاں سامنے آئیں۔
وزارتِ حج و عمرہ کے ترجمان غسان النعیمی کے مطابق متاثرہ ایجنسیوں کو 10 دن کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ نشاندہی کی گئی خامیوں کو دور کر سکیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ فی الحال یہ معطلی صرف نئے عمرہ ویزوں کے اجرا تک محدود ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ جو ایجنسیاں مقررہ مدت کے اندر وزارت کے طے شدہ معیار پر پورا اتریں گی، ان کے معاہدے دوبارہ بحال کر دیے جائیں گے، تاہم مقررہ وقت میں اصلاحات نہ کرنے والی ایجنسیوں کے خلاف مزید سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
وزارت نے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ جن زائرین کے عمرہ ویزے پہلے ہی جاری ہو چکے ہیں یا جن کی بکنگ مکمل ہے، وہ اس فیصلے سے متاثر نہیں ہوں گے اور ان کی سفری و رہائشی سہولیات بلا تعطل جاری رہیں گی۔
غسان النعیمی نے مزید کہا کہ وزارت آئندہ بھی نگرانی اور جانچ کے نظام کو مؤثر انداز میں استعمال کرتی رہے گی تاکہ زائرین کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور عمرہ شعبے کی ساکھ کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب نے غیر قانونی تارکین وطن پر بڑی کارروائی کی، ممالک کے نام سامنے آ گئے
جبکہ دوسری جانب سعودی عرب میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں، اور ایک ہفتے کے دوران بڑی تعداد میں خلاف ورزی کرنے والے افراد کو گرفتار یا ملک بدر کیا گیا۔
مقامی میڈیا اور سعودی پریس ایجنسی (SPA) کی رپورٹ کے مطابق 22 سے 28 جنوری 2026 کے دوران 19 ہزار 975 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں جبکہ 14 ہزار 867 غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھیج دیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس دوران 12 ہزار 906 افراد اقامہ قوانین کی خلاف ورزی، 3 ہزار 918 افراد بارڈر سکیورٹی قوانین کی خلاف ورزی، اور 3 ہزار 151 افراد محنت قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث پائے گئے۔
غیر قانونی طور پر سعودی عرب میں داخل ہونے کی کوشش پر 1,419 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں 60 فیصد ایتھوپین، 39 فیصد یمنی اور ایک فیصد دیگر ممالک کے شہری شامل ہیں۔
مزید 48 افراد کو بھی پکڑا گیا جو سرحد پار کرکے سعودی عرب سے ہمسایہ ممالک میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
اسی طرح11 افراد کو حراست میں لیا گیا جو غیر قانونی طور پر سفر، رہائش، روزگار یا پناہ دینے میں ملوث تھے۔





