واشنگٹن: وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور مذاکرات کے نتیجے میں کوئی ڈیل طے پانا ضروری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر مذاکرات کامیاب ہوئے تو یہ دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوگا، تاہم اگر معاملہ طے نہ پایا تو اس کے خطرناک نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وینزویلا کی قیادت کے رویے میں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے اور اس کے بعد وہاں بھیجے گئے بحری بیڑے کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
اب وینزویلا کی جانب بھی بھیجے گئے بیڑے کے مقابلے میں ایران کی جانب بڑا بحری بیڑہ گامزن ہے۔
ٹرمپ نے اس موقع پر اسٹیو وٹکوف کے ذریعے جمعے کو ایرانی وزیرخارجہ سے ہونے والے مذاکرات کی تصدیق بھی کی۔
یوکرین اور روس کے تعلق سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کے لیے پیش رفت کی توقع ہے اور اس معاملے پر کام جاری ہے۔
مزید برآں صدر ٹرمپ نے اپنے اپیسٹین اسکینڈل کے حوالے سے وضاحت دی اور کہا کہ ان کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایرانی قوم نے امریکی اور اسرائیلی سازش ناکام بنا دی، آیت اللہ خامنہ ای
آخر میں صدر نے امریکی صنعتوں کے لیے اہم معدنیات کے اسٹریٹجک ذخیرہ قائم کرنے کے فیصلے کا بھی اعلان کیا، جس سے ملک کی صنعتوں اور معیشت کو مستقبل میں فائدہ پہنچے گا۔
صدر ٹرمپ کی یہ گفتگو عالمی سیاست میں ایران اور یوکرین کے حوالے سے جاری حساس حالات کے درمیان سامنے آئی ہے، جس سے عالمی سطح پر اس کے اثرات پر نگاہیں مرکوز ہیں۔





