نوشکی میں دہشتگردوں کا کمر ٹوٹ گیا! فتنہ الہندوستان سے جدید اسلحہ، ہائی ٹیک آلات اور موبائل ڈیواسز برآمد، 22 ہلاک

نوشکی میں دہشتگردوں کا کمر ٹوٹ گیا! فتنہ الہندوستان سے جدید اسلحہ، ہائی ٹیک آلات اور موبائل ڈیواسز برآمد، 22 ہلاک

پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع نوشکی میں ایک کامیاب انسداد دہشت گردی کارروائی کے دوران بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیم فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے عناصر کے قبضے سے جدید اور اعلیٰ ٹیکنالوجی پر مشتمل فوجی ساز و سامان برآمد کر لیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ روز کیے گئے فالو اپ اور کلیئرنس آپریشنز میں مزید 22 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جس کے بعد ہلاک دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 177 ہو گئی۔ کارروائی کے دوران قبضے میں لیا گیا اسلحہ اور ساز و سامان انتہائی جدید نوعیت کا تھا، جس میں شامل تھے۔

اسالٹ رائفلز
متعدد خم دار میگزین
گرینیڈ لانچرز یا آر پی جی طرز کی ٹیوبز
دوربینیں، نائٹ وژن گوگلز اور اسکوپس
کیمرے
مختلف کیموفلاج ٹیکٹیکل ویسٹس اور پلیٹ کیریئرز، جن پر بی ایل اے ‘ثنا’ اور ‘مجید بریگیڈ’ کے لیبل لگے ہوئے تھے
بڑی مقدار میں گولہ بارود، دستی گرینیڈز، آر پی جی وار ہیڈز، مارٹر راؤنڈز اور اینٹی ٹینک پروجیکٹائلز

اس سے قبل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے بتایا تھا کہ بلوچستان میں دو روزہ انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے دوران 133 دہشت گرد ہلاک ہوئے تھے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق 31 جنوری کو بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد صوبے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی میں متعدد حملے کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ فوج کے مطابق دہشت گردوں نے گوادر اور خاران میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 18 افراد شہید ہوئے، جن میں خواتین، بچے، بزرگ شہری اور مزدور شامل ہیں۔

فوری ردعمل دیتے ہوئے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے متاثرہ علاقوں میں مشترکہ کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشنز شروع کیے۔ شدید اور طویل جھڑپوں کے دوران 92 دہشت گرد مارے گئے، جن میں 3 خودکش بمبار بھی شامل تھے، جبکہ 15 سیکیورٹی اہلکار بھی شہید ہوئے۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں مزید کہا گیا کہ:
“سینیٹائزیشن آپریشنز مسلسل جاری ہیں اور معصوم شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے والے ان بزدلانہ اور گھناؤنے واقعات کے منصوبہ ساز، سہولت کار اور معاونین کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔”

انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق یہ حملے پاکستان سے باہر موجود دہشت گرد قیادت نے منصوبہ بند کیے اور وہ براہِ راست میدان میں موجود دہشت گردوں سے رابطے میں تھے، جس سے دہشت گرد تنظیموں کی بیرونی حمایت اور ان کے خطرناک نیٹ ورک کی تصدیق ہوئی۔

یہ کامیاب کارروائی نہ صرف بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال مستحکم کرنے کی جانب ایک بڑا قدم ہے، بلکہ دہشت گرد تنظیموں کی مالی و اسلحہ سپلائی لائنز کو کمزور کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

Scroll to Top