وزیراعلی سہیل آفریدی کو لاجواب کرنے والی طالبہ نے مزید سوالات اٹھالئے

نشتر ہال میں منعقدہ تقریب کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کولاجواب کرنے والی اسلامیہ کالج کی طالبہ فاطمہ خان نےکہا کہ وزیراعلیٰ کا بیان مبالغہ آرائی اور اشتعال انگیزی پر مبنی تھا جس میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔

تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ تقریب کے دوران میں نے وزیراعلیٰ سے سوال کیا کہ اگر دیگر صوبوں میں فارم 47 کی مبینہ جعلی حکومتیں ہیں تو خیبرپختونخوا میں گزشتہ 15 سال سے موجود پی ٹی آئی کی اصلی حکومت نے صوبے کو ترقی کیوں نہیں دی؟

طالبہ کا کہنا تھا کہ صوبوں کے مقابلے میں خیبرپختونخوا پیچھے رہ گیا ہے۔

فاطمہ خان نے شکوہ کیا کہ وزیراعلیٰ نے ان کا سوال مکمل سننے کے بجائے ان پر سیاسی وابستگی کا لیبل لگانے کی کوشش کی اور تسلی بخش جواب دینے سے گریز کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی قیادت صرف نوجوانوں کے جوش و جذبے کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بااثر لوگ تو اثر و رسوخ کی بنیاد پر جیلوں سے رہا ہو جاتے ہیں لیکن غریب کارکن جیلوں میں پڑے رہتے ہیں اور ان کا مستقبل برباد ہو جاتا ہے۔

انہوں نے وزیراعلیٰ کو مشورہ دیا کہ وہ محض دوروں اور بیانات کے ذریعے نفرت پھیلانے کے بجائے صوبے کی عملی ترقی پر توجہ دیں کیونکہ عوام کو حکومت کا کوئی بھی کام زمین پر نظر نہیں آ رہا۔

Scroll to Top