نیب نے 2025 میں کتنی ریکوری کی؟ حیران کن اعداد و شمار جاری

نیب نے 2025میں کتنی ریکوری کی،حیران کن اعدادوشمار جاری

قومی احتساب بیورو (نیب) نے سال 2025 میں مجموعی طور پر 6 کھرب روپےکےقریب کی ریکوری کا دعویٰ کیا ہے۔

نیب نے صوبوں کو 5 کھرب روپے سے زائد مالیت کی گم شدہ سرکاری زمینیں اور اثاثے واپس کروائے، جن میں جنگلات، ایف بی آر اور گولڑا ای الیون کی زمینیں شامل ہیں۔

نیب حکام نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ کوہستان اسکینڈل میں مجموعی رقم 40 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، جن میں سے اب تک 26 ارب روپے سرکاری خزانے میں جمع کرائے جا چکے ہیں۔

ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر نے کہا کہ نیب اصلاحات کے بعد کاروباری طبقے، ارکان پارلیمنٹ اور بیوروکریسی کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی کا میڈیا ٹرائل نہیں ہوگا، جرم ثابت ہونے پر سزا دی جائے گی اور جھوٹی شکایت کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ شفافیت کے لیے شکایت کی صورت میں شناخت مخفی رکھی جاتی ہے اور بزنس مین، ارکان پارلیمنٹ اور بیوروکریسی کے لیے خصوصی طریقہ کار اپنایا گیا ہے۔ بعض شکایات براہِ راست متعلقہ اداروں کو بھی بھیجی جاتی ہیں۔

ڈی جی آپریشنز نیب عبدالمجید اولکھ نے بتایا کہ میڈیا ٹرائل صرف شکایت کی بنیاد پر ختم کر دیا گیا ہے۔ ارکان پارلیمنٹ سے متعلق شکایتوں کے لیے اسپیکرز کے تحت سہولت سیل قائم کیے گئے ہیں تاکہ شفافیت برقرار رہے، جبکہ نیب اس جواب پر مکمل انحصار کرنے کا پابند نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقے کے لیے چیمبرز میں خصوصی سہولت سیل قائم کیے گئے ہیں اور نیب کے اندر نگرانی کے لیے نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ 2025 میں اوسطاً ماہانہ 1951 شکایات موصول ہوئیں اور جعلی شکایات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

نیب حکام کے مطابق پاکستان نے روس، سعودی عرب، نائیجیریا، چین، ملائشیا، آسٹریلیا، تاجکستان اور سری لنکا سمیت متعدد ممالک کے ساتھ ایم او یوز سائن کیے ہیں، جس کے تحت احتسابی ادارے معلومات شیئر کر رہے ہیں۔

کوہستان اسکینڈل میں اب تک 26 ارب روپے خزانے میں جمع کرائے جا چکے ہیں، جبکہ مجموعی اسکینڈل 40 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ڈپٹی چیئرمین نیب کے مطابق یہ رقوم ڈرائیورز اور ڈمپر ڈرائیورز کے ناموں پر رکھی گئی تھیں اور دیواروں و پینٹ کے ڈبوں میں چھپائی گئی تھیں۔

نیب نے بلوچستان میں 10 لاکھ ایکڑ زمین واپس دلائی جس کی مالیت ایک کھرب روپے سے زائد ہے، پنجاب میں 811 ارب روپے اور سندھ میں 58 ارب روپے مالیت کی زمینیں واگزار کروائی گئی ہیں۔

گزشتہ سال نیب نے 180 ارب روپے کی رقم 1 لاکھ 15 ہزار متاثرین کو واپس دلائی، جبکہ اس وقت 39 ہائی پروفائل منی لانڈرنگ کیسز پر تحقیقات جاری ہیں اور 127 ارب روپے کی پراپرٹیز میں سے 87 ارب روپے کی پراپرٹیز منسلک کر دی گئی ہیں۔

Scroll to Top