پشاور: محکمہ کھیل خیبرپختونخوا کے زیرِ اہتمام صوبے کی تاریخ کے سب سے بڑے مقابلوں میں سے ایک انڈر 21 گیمز کا میلہ آج بروز بدھ (4 فروری) سے پشاور اسپورٹس کمپلیکس میں سجنے جا رہا ہے۔
ان مقابلوں میں صوبے کے 7 ریجنز اور 36 اضلاع سے 5 ہزار سے زائد مرد و خواتین کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائیں گے۔
ڈائریکٹر جنرل اسپورٹس خیبرپختونخوا تاشفین حیدر کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں گیمز کے انتظامات کو حتمی شکل دی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ مرد کھلاڑی: مجموعی طور پر 38 مختلف کھیلوں میں حصہ لیں گے، جبکہ خواتین کھلاڑی:18 مختلف کھیلوں میں ایکشن میں نظر آئیں گی۔
خصوصی افراد: اس ایونٹ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں خصوصی افراد، پستہ قامت کھلاڑیوں اور اسٹینڈنگ کرکٹ کے مقابلے بھی شامل کیے گئے ہیں۔
مقابلوں کے لیے صوبے کے مختلف اسپورٹس کمپلیکسز کو مختص کیا گیا ہے:
1. مردوں کے مقابلے: پشاور اسپورٹس کمپلیکس، حیات آباد اسپورٹس کمپلیکس، کوہاٹ اور مردان اسپورٹس کمپلیکس میں ہوں گے۔
2. خواتین کے مقابلے: عبدالولی خان اسپورٹس کمپلیکس چارسدہ، شہید بے نظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی، پشاور بورڈ گراؤنڈ اور حیات آباد اسپورٹس کمپلیکس میں منعقد کیے جائیں گے۔
مردوں کے لیے: بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس، فٹبال، ہاکی، باکسنگ، تائیکوانڈو، ریسلنگ، باڈی بلڈنگ، کبڈی، رگبی اور زورخانہ سمیت 38 کھیل۔
خواتین کے لیے: کرکٹ، نیٹ بال، سافٹ بال، بیڈمنٹن، آرچری اور فٹسال سمیت 18 کھیل۔
یہ بھی پڑھیں : اب نہ سفارش چلے گی نہ غلطی؛ خیبر پختونخوا کے امتحانی نظام میں ڈیجیٹل انقلاب
ڈی جی اسپورٹس تاشفین حیدر نے حکام کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ کھلاڑیوں کو رہائش، خوراک اور ٹرانسپورٹ میں کسی قسم کی مشکل پیش نہ آئے۔ انہوں نے کہا کہ ان گیمز کا مقصد نچلی سطح پر ٹیلنٹ کو سامنے لانا ہے۔
ان کھیلوں کا باقاعدہ اختتام 7 فروری کو پشاور اسپورٹس کمپلیکس میں ایک پروقار تقریب کے ساتھ ہوگا۔





