تنخواہ دار طبقے کی جانب سے ادا کیے جانے والے انکم ٹیکس میں بڑا اضافہ

اسلام آباد:ملک میں بڑھتے ہوئے برین ڈرین کے باوجود پاکستان کا تنخواہ دار طبقہ مسلسل مالی دباؤ کا شکار ہے، جہاں رواں مالی سال کے ابتدائی سات ماہ کے دوران اسی طبقے کی جانب سے ادا کیے جانے والے انکم ٹیکس میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ایف بی آر کے عبوری اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے جنوری تک تنخواہ دار افراد نے مجموعی طور پر 315 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں وصول ہونے والے 285 ارب روپے کے مقابلے میں 30 ارب روپے زائد ہے۔ اس طرح ٹیکس وصولیوں میں 10 فیصد سے زائد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرکاری اور نجی شعبے کے تنخواہ دار افراد کی جانب سے ادا کردہ ٹیکس، اسی عرصے میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے مجموعی ٹیکس سے دو گنا سے بھی زیادہ رہا۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہ رقم بک ایڈجسٹمنٹس کے بغیر ہے اور اس میں ان کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگیاں بھی شامل نہیں جو انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 153-بی کے تحت ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

دوسری جانب ملک میں ہنرمند اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی بیرونِ ملک منتقلی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق گزشتہ کیلنڈر سال میں ملک چھوڑنے والے 7 لاکھ 62 ہزار پاکستانیوں میں سے 2 لاکھ 54 ہزار سے زائد افراد ہنرمند، انتہائی ہنرمند یا اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔

یوں ہر تین میں سے ایک پاکستانی بہتر روزگار اور زیادہ آمدن کی تلاش میں بیرونِ ملک منتقل ہوا۔

یہ بھی پڑھیں : ماورائے عدالت قتل اور کرفیو ناقابل قبول، کشمیریوں کے حق خودارادیت کا احترام کیا جائے، عاصم افتخار

ماہرین کے مطابق تنخواہ دار طبقہ غیر متوازن ٹیکس پالیسیوں کا سب سے زیادہ شکار ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے ریلیف کے اعلانات عملی اقدامات میں تبدیل نہیں ہو سکے۔ اسی صورتحال کے باعث پیشہ ور اور تعلیم یافتہ افراد پاکستان چھوڑنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

اگرچہ اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر ملکی معیشت کو سہارا دے رہی ہیں اور ڈیفالٹ سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں، تاہم حکومتی مؤقف یہ ہے کہ تمام ہنرمند افراد ملک نہیں چھوڑ رہے۔

اس کے باوجود اعداد و شمار بڑھتے ہوئے برین ڈرین اور تنخواہ دار طبقے پر بڑھتے ٹیکس بوجھ کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔

Scroll to Top