بھارت براہِ راست حملہ نہیں کر سکتا، پراکسیز کے ذریعے بدامنی پھیلا رہا ہے، خواجہ آصف

اسلام آباد:وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ راولپنڈی میں ہونے والے خودکش حملے میں ملوث حملہ آور پاکستانی شہری تھا جو کچھ عرصہ قبل افغانستان گیا تھا اور بعد ازاں واپس آیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کا مقصد پاکستان کی ترقی اور استحکام کے عمل کو نقصان پہنچانا تھا۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ دہشت گردی کے لیے دانستہ طور پر ایک ایسا وقت منتخب کیا گیا جب پاکستان نے دو ممالک کے ساتھ اہم معاہدے کیے تھے، تاکہ ملک کی مثبت سمت میں پیش رفت کو سبوتاژ کیا جا سکے۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ بھارت براہِ راست جارحیت کا حوصلہ نہیں رکھتا، تاہم وہ اپنی پراکسیز کے ذریعے اور افغانستان کی سرزمین استعمال کر کے پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کو نقصان پہنچانے کے لیے ایسے عناصر کو سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

خواجہ آصف نے انکشاف کیا کہ خودکش حملہ آور خیبر پختونخوا سے اسلام آباد آیا تھا اور سیکیورٹی ادارے حملہ آور کے خاندان اور قریبی رشتے داروں تک بھی پہنچ چکے ہیں۔

ان کے مطابق تحقیقات مختلف پہلوؤں سے جاری ہیں اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں : سانحہ راولپنڈی: بھارت کا دوہرا چہرہ بے نقاب ، دہشت گردی کی پشت پناہی اور متنازع بیان بازی

انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان رابطہ موجود ہے اور بظاہر اب صوبائی حکومت بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی اونرشپ لے رہی ہے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔

وزیر دفاع نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے تمام ادارے مل کر کام کر رہے ہیں اور ملک کے امن و استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

Scroll to Top