کولمبو میں جاری آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے افتتاحی میچ میں پاکستان نے نیدرلینڈ کے دیے گئے 148 رنز کے ہدف کے تعاقب میں ابتدائی مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ پاکستانی ٹیم 7 وکٹوں کے نقصان پر صرف 114 رنز بنا سکی، اور شائقین کے لیے نتائج ابھی غیر یقینی ہیں۔
پاکستان کی بیٹنگ کا آغاز صاحبزادہ فرحان اور صائم ایوب نے کیا، لیکن صرف 27 رنز کے مجموعے پر صائم ایوب 13 گیندوں پر 24 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ اس دوران انہوں نے 4 چوکے اور ایک چھکا جڑ کر جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔
کپتان سلمان علی آغا بھی طوفانی آغاز کے بعد صرف 12 رنز بنا کر آریان دت کا شکار بن گئے، جبکہ صاحبزادہ فرحان 46 رنز بنا کر پویلین لوٹے۔ عثمان خان صفر پر بولڈ ہوئے، اور دونوں کو پال وین میکرین نے ایک ہی اوور میں آؤٹ کیا۔ اگلے اوور میں وین ڈر مرفی نے بابر اعظم کو کیچ آؤٹ کر کے ٹیم کی مشکلات میں اضافہ کیا۔
پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا نے ٹاس جیت کر نیدرلینڈ کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔ نیدرلینڈ نے مائیکل لیوٹ اور میکس اوڈووڈ کی شراکت سے اننگز کا آغاز کیا اور 28 رنز کا ابتدائی سکور بنایا۔ اوڈووڈ 5 رنز بنا کر سلمان مرزا کی گیند پر آؤٹ ہوئے، جبکہ لیوٹ محمد نواز کا شکار بنے اور 24 رنز اسکور کیے۔ تین وکٹوں کے نقصان کے بعد کولن ایکرمین 20 اور باس ڈی لیڈ 30 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔
پاکستانی بولرز نے میچ میں شاندار کم بیک کرتے ہوئے آخری 6 وکٹیں صرف 20 رنز کے عوض حاصل کیں۔ سلمان مرزا نے 3، صائم ایوب، محمد نواز اور ابرار احمد نے دو، دو اور ایک وکٹ شاہین آفریدی کے حصے میں آئی۔ نیدرلینڈ کی ٹیم 147 رنز پر آل آؤٹ ہو گئی، حالانکہ ایک موقع پر توقع تھی کہ وہ 160 یا 170 کے درمیان اسکور کر سکتی ہے۔
نیدرلینڈ کے کپتان اسکاٹ ایڈورڈز 37 رنز کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہے، جبکہ باس ڈی لیڈ، مائیکل لیوٹ اور کولن ایکرمین نے بالترتیب 30، 24 اور 20 رنز بنائے۔
اب شائقین کی نظریں پاکستانی بیٹنگ پر مرکوز ہیں کہ آیا گرین شرٹس 148 رنز کے ہدف کو حاصل کر کے شاندار آغاز کر سکیں گے یا پہلی وکٹ کی کمی کے بعد مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔





