پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے 8 فروری کو دی گئی ہڑتال کی کال خیبر پختونخوا میں ناکام ہو گئی عوام اور تاجروں نے اسے مسترد کرتے ہوئے شدید ردِعمل کا اظہار کیا۔
ضلع دیر لوئر کے اہم تجارتی مرکز چکدرہ میں دکانیں کھلی رہیں اور کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں جبکہ پی ٹی آئی کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی۔
چکدرہ کے تاجروں نے ہڑتال کی مخالفت میں “ہڑتال گردی نامنظور” اور “پی ٹی آئی مردہ باد” کے نعرے لگائے۔
تاجروں کا کہنا تھا کہ بار بار ہڑتالوں اور احتجاجی کالز نے کاروبار کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور عوام اب مزید ایسے اقدامات برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ کے اس دور میں کاروبار بند کرنے کی کالز عوام کے مسائل میں اضافہ کرتی ہیں اور سیاسی جماعتوں کو احتجاج کے بجائے عملی کام اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔
چکدرہ کے علاوہ خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں بھی ہڑتال کا کوئی نمایاں اثر دیکھنے میں نہیں آیا۔
ٹرانسپورٹ معمول کے مطابق چلتی رہی، بازار کھلے رہے اور لوگ اپنے روزمرہ کاموں میں مصروف رہے۔
یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی، باوجود صوبے میں حکومت ہونے کے، عوامی حمایت کے معاملے میں کمزور پڑ چکی ہے۔
تاجروں اور عوام کی جانب سے نعرے بازی اور ہڑتال کی مخالفت نے پارٹی کی مبینہ مقبولیت کو بے نقاب کر دیا ہے اور واضح کر دیا کہ لوگ اب احتجاجی سیاست سے بیزار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں بھی شٹر ڈاؤن ہڑتال مکمل ناکام، وزیراعلیٰ مریم نواز نے پی ٹی آئی کو آئینہ دکھا دیا
مجموعی طور پر 8 فروری کی ہڑتال خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں مؤثر ثابت نہ ہو سکی، اور چکدرہ میں سامنے آنے والا ردِعمل پی ٹی آئی کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ عوام معمولاتِ زندگی میں خلل ڈالنے والی سیاست کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔





