جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے راولپنڈی میں جمعیت علمائے اسلام یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ حکومت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ یہ حکومت جعلی مینڈیٹ پر قائم ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگرچہ وہ اور ان کی جماعت اقتدار میں شامل نہیں مگر کسی بھی طرح کے مینڈیٹ کے احترام کے بغیر حکومت چلائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام اقتدار کی سیاست نہیں کرتی بلکہ قوم کی رہنمائی اور اصولوں کی بنیاد پر سیاست کرتی ہے۔
انہوں نے کہا اقتدار میں آنا منزل مقصود نہیں بلکہ سفر کا حصہ ہوتا ہے، آج کی حکومت بنائی گئی نہیں بلکہ مختلف جماعتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر قائم کیا گیا ہے، ایسی حکومتیں جمہوریت اور سیاست کا مذاق ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے الیکشن کمیشن کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ الیکشن کمیشن نے ایک حلقے کا بھی درست نتیجہ معلوم نہیں کیا اور انہیں کٹ پتلی الیکشن کمیشن قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم اس جھرلو الیکشن کو کبھی قبول نہیں کرے گی اور ہمیشہ حقائق اور دلیل پر مبنی سیاست کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: عوام نے انتشار، منفی سیاست اور زبردستی ہڑتال کی کال کو مسترد کر دیا ہے، ہمایون خان
انہوں نے چین کے ساتھ تعلقات اور میگا پراجیکٹس پر بھی تنقید کی اور کہا کہ عمران خان کی حکومت کے دوران بڑے منصوبے روک دیے گئے جس سے عالمی شراکت داروں کی توقعات متاثر ہوئیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ چین پی ڈی ایم کی قیادت سے بہتری کی امید رکھتا تھا لیکن موجودہ صورتحال نے پاکستان کی ساکھ متاثر کی۔
مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا اگر آپ نے اکثریت حاصل کی ہے تو دل سے احترام کریں گے، لیکن کسی طرح کے جھرلو طریقے سے مینڈیٹ کو مسخ نہیں کیا جا سکتا۔





