عمران خان اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات، وزیر اعظم کےکوآرڈینیٹر نے بتادیا

اسلام آباد : وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے خیبر پختونخوا اختیار ولی خان نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود اچکزئی کے درمیان ملاقات جلد ہونے کی توقع ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے بتایا کہ یہ ملاقات ایک یا دو ہفتوں کے اندر ہو سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم شہباز شر یف اور محمود اچکزئی کی ملاقات سے پہلے عمران خان سے ملاقات ہوگی، تاکہ اپوزیشن کے معاملات کو بہتر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔

اختیار ولی خان نے کہا کہ معاملات درست سمت میں جا رہے ہیں لیکن پی ٹی آئی کی نچلی قیادت نے اسٹریٹ موومنٹ کا عندیہ دیا، جس پر حکومت نے کہا کہ اسٹریٹ موومنٹ کا شوق پورا کر لو، پھر مذاکرات کے لیے واپس آنا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب دوبارہ مذاکرات کے لیے آئیں گے تو معاملے پر قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر بات ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے مذاکرات کے دوران ٹی او آرز میں واضح کر دیا تھا کہ کوئی غیر آئینی مطالبہ قبول نہیں کیا جائے گا۔

اختیار ولی خان کے مطابق اگر مذاکرات ہوئے بھی تو نئے انتخابات کا مطالبہ قبول نہیں ہوگا اور پی ٹی آئی سے کسی بھی معاملے میں قانون سے بالا تر کوئی چیز نہیں چل سکتی۔

پی ٹی آئی کی ہڑتال کے حوالے سے اختیار ولی خان نے کہا کہ سندھ اور پنجاب میں کوئی خاص سرگرمی نہیں دیکھی گئی، جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں کوئی پہیہ جام یا شٹر ڈاؤن نہیں ہوا۔

خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں بھی کاروبار معمول کے مطابق جاری رہا۔

یہ بھی پڑھیں : عطا تارڑ نے بیرسٹر گوہر کے لیے بڑی پیشکش کر دی

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مقامی قیادت نے خیبر پختونخوا میں کھلی دکانوں پر حملے کروائے اور مالاکنڈ میں زبردستی کاروبار بند کروانے کی کوشش کی، جس پر مقامی عوام نے پی ٹی آئی کے جلوس پر مزاحمت کی۔

اختیار ولی خان نے کہا کہ عوام نے کہاتم ہوتے کون ہو ہمارے دکانیں بند کروانے والے؟ اور یہی وجہ تھی کہ ہڑتال کے مقامی اثرات ناکام رہے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ پی ٹی آئی کی دوسرے درجے کی قیادت نے سندھ اور خیبر پختونخوا میں ہڑتال کی کال زور دے کر دی، جبکہ سینئر قیادت کی منظوری کے بغیر یہ فیصلہ نافذ کرنے کی کوشش کی گئی۔

اختیار ولی خان نے کہا کہ آج کے پی میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کو عوام نے مسترد کر دیا، اور کاروبار معمول کے مطابق جاری رہا۔

Scroll to Top