پاکستان میں موجود امریکا منتقلی کے منتظر ہزاروں افغان شہریوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں واپس افغانستان بھیجنے کا اصولی فیصلہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ تقریباً 19 ہزار سے زائد افغان شہری کئی برس سے امریکا میں آبادکاری کے منتظر ہیں، لیکن افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد کئی سال گزرنے کے باوجود ان کی مکمل آبادکاری ممکن نہیں ہو سکی۔ طویل تاخیر کے باعث اب ان کی واپسی کا عمل شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزارت داخلہ نے افغان شہریوں کی واپسی کے حوالے سے صوبوں کو آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں تمام صوبائی چیف سیکریٹریز، پولیس سربراہان، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد انتظامیہ کو باقاعدہ خطوط ارسال کیے جانے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان نے پہلے بھی غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں، خصوصاً افغان شہریوں کی واپسی کا عمل شروع کیا ہوا ہے، اور ماضی میں بڑی تعداد میں افغان شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ہدایات دی جا چکی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان نے مغربی ممالک، خصوصاً امریکا، پر بارہا زور دیا تھا کہ وہ افغان شہریوں کی بروقت آبادکاری یقینی بنائیں، بصورت دیگر انہیں واپس بھیجنے کے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے بعد بڑی تعداد میں افغان شہری پاکستان منتقل ہوئے تھے، جن میں وہ افراد بھی شامل تھے جنہیں غیر ملکی حکومتوں کے ساتھ کام کرنے کے باعث خطرات لاحق تھے۔ اب کئی سال گزرنے کے باوجود ان کے کیسز مکمل نہ ہونے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
یہ پیش رفت افغان شہریوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے ایک نہایت اہم اور سنسنی خیز صورتحال پیدا کر رہی ہے، کیونکہ کئی برسوں کی امیدیں اور خواب اب خطرے میں پڑ گئے ہیں۔





