بلوچستان کے ضلع نوشکی میں بلوچ قبائل نے ریاست دشمن عناصر اور فتنہ الہندوستان کالعدم بی ایل اے کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے تنظیم کے سرغنہ بشیر زیب کے گھر پر دھاوا بول دیا ہے۔

مشتعل قبائلیوں نے اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے دہشت گردی اور غیر ملکی ایجنڈے پر عمل پیرا اس گروہ کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور بشیر زیب کے گھر کو مکمل طور پر مسمار کر کے ملیا میٹ کر دیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی خالصتاً قبائلی بنیادوں پر کی گئی ہے جس کا مقصد ان عناصر کو واضح پیغام دینا ہے جو بھارت کے اشاروں پر بلوچستان کے امن کو سبوتاژ کرنے اور بے گناہ شہریوں کا خون بہانے میں ملوث ہیں۔

مقامی سطح پر اس اقدام کو دہشت گردی کے خلاف عوامی مزاحمت کی ایک بڑی لہر قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اب بلوچ عوام نے ان شرپسندوں کو اپنی صفوں سے نکال باہر کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے جو مٹھی بھر مفادات کے لیے پوری قوم کا مستقبل داؤ پر لگا رہے ہیں۔

اس واقعے کے بعد پورے علاقے میں یہ تاثر پختہ ہوا ہے کہ دشمن کے آلہ کاروں کے لیے اب بلوچستان کی سرزمین پر کوئی جگہ باقی نہیں بچی اور عوام اپنی ریاست اور فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔





