عمران خان کی جیل سے منتقلی ، چیئرمین پی ٹی آئی کا اہم بیان آ گیا

اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف بیرسٹر گوہر نے واضح کیا ہے کہ حکومت یا کسی بھی فریق کے ساتھ کسی قسم کے بیک ڈور مذاکرات نہیں ہو رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے گردش کرنے والی تمام خبریں بے بنیاد ہیں۔

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے رہنما آج سپریم کورٹ پیش ہوئے، جہاں چیف جسٹس نے تمام کیسز سماعت کے لیے مقرر کیے، تاہم تین مقدمات آج کے لیے ملتوی کر دیے گئے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 8 فروری کو دی گئی احتجاجی کال کے دوران پنجاب میں سختی کی گئی، اس کے باوجود پنجاب، بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخوا میں عوام نے احتجاج کیا اور پہیہ جام ہڑتال میں بھرپور حصہ لیا۔

ان کے مطابق یہ عوامی ردعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ موجودہ صورتحال سے مطمئن نہیں۔

انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جیل منتقلی سے متعلق پھیلائی جانے والی افواہوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی خبریں مکمل طور پر غلط ہیں اور جان بوجھ کر کنفیوژن پیدا کی جا رہی ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ عمران خان نے علامہ راجہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کو مکمل اختیار دے رکھا ہے، اور یہ دونوں رہنما اپنی صوابدید کے مطابق مذاکرات یا آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق فیصلے کریں گے۔

بیرسٹر گوہر نے کسی ممکنہ مارچ کے لیے کنٹینرز کی تیاری سے متعلق خبروں کو بھی بے بنیاد قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے زیرِ گردش اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : چانگان کی خصوصی آفر: لاکھوں روپے کی بچت کے ساتھ نئی گاڑی خریدیں

نجی ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے ایک بار پھر اس بات کی تصدیق کی کہ احتجاج سے متعلق تمام اختیارات محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے پاس ہیں، اور وہی آئندہ کی حکمت عملی طے کریں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد میں 300 سے زائد یونین کونسلز سمیت مختلف علاقوں میں پہیہ جام ہڑتال کامیاب رہی۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ اگر سیاسی جماعتوں کے لیے تمام راستے بند کیے جائیں گے تو عوام ردعمل ضرور دیں گے، کیونکہ عوامی آواز کو زیادہ دیر تک دبایا نہیں جا سکتا۔

Scroll to Top