اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی جیل میں سہولتوں کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں دیگر قیدیوں کے مقابلے میں خصوصی مراعات حاصل ہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے ایک بیان میں کہا کہ عمران خان کے خاندان کی جانب سے بین الاقوامی میڈیا پر جاری کیے گئے الزامات، جن میں بانی پی ٹی آئی کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے دعوے کیے گئے تھے، ناکام ہو گئے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ جیل میں روزمرہ معمولات، خوراک اور دیگر سہولیات سے متعلق جو رپورٹس سامنے آئی ہیں، اس سے تمام شبہات دور ہو گئے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان کو جیل میں تمام ضروری سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں اور ان کے ساتھ قانون اور جیل کے قواعد کے مطابق برتاؤ کیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ حکومت شفافیت پر یقین رکھتی ہے اور اسی مقصد کے تحت حقائق منظر عام پر لائے گئے تاکہ غلط تاثر اور پروپیگنڈا کو ختم کیا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام عوام کو درست معلومات فراہم کرنے اور افواہوں کا سد باب کرنے کے لیے کیا گیا ہے، تاکہ کسی بھی قسم کی گمراہی یا غیر حقیقی بیانیہ کو ختم کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : سپریم کورٹ نے عمران خان کی صحت سے متعلق درخواست پر اہم ہدایات جاری کر دیں
جبکہ دوسری جانب سپریم کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی صحت کے سلسلے میں اہم ہدایات جاری کر دی ہیں۔
عدالت نے عمران خان کے آنکھ کے چیک اپ کی ہدایت دی ہے اور کہا کہ یہ چیک اپ 16 فروری سے پہلے کروایا جائے۔
عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ بانی پی ٹی آئی کے بچوں سے فون پر رابطہ کرایا جائے تاکہ وہ والد کی صحت کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں۔
سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالتی ہدایات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرا دی ہے۔
بنچ نے واضح کیا کہ عمران خان کی صحت کی رپورٹ اور فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے عدالت کی ہدایات پر فوری عمل ہونا چاہیے۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی ہدایت جاری کی کہ بانی پی ٹی آئی کے بچوں سے بات بھی 16 فروری سے پہلے کروائی جائے۔





