اسلام آباد: اسلام آباد میں اپوزیشن اتحاد کے اہم اجلاس کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاجی دھرنا دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے ملاقات اور ان کے مکمل علاج تک احتجاج جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دھرنا پارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی دروازے پر دیا جائے گا جس میں تحریک انصاف کی مرکزی قیادت شریک ہوگی۔
اس سلسلے میں تمام اراکین قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیوں کے ارکان اور سینیٹرز کو اسلام آباد پہنچنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : بین الاقوامی میڈیا کے دعوے ناکام: عطا تارڑ کا عمران خان کی جیل سہولیات پر ردعمل
اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں نے باہمی مشاورت کے بعد اس احتجاجی حکمت عملی کو حتمی شکل دی۔
بعد ازاں اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے جمعہ سے باضابطہ طور پر پرامن دھرنا شروع کرنے کا اعلان کیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ (ایکس ) پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر ہونے والا احتجاج مکمل طور پر پرامن ہوگا۔
کل سے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پر امن احتجاجی دھرنا شروع ہوگا۔ ہمارے مطالبات ہم کل دھرنے میں رکھیں گے اور مطالبات تسلیم ہونے تک دھرنا جاری رہے گا۔ مطالبات تسلیم کرنے میں خدانخواستہ کچھ غلط ہوا تو زمہ دار حکومت ہوگی۔
— Mehmood Khan Achakzai (@MKAchakzaiPKMAP) February 12, 2026
محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اپنے مطالبات دھرنے کے پہلے روز پیش کرے گی اور جب تک مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات کی منظوری کے دوران خدانخواستہ کوئی ناخوشگوار صورتحال پیدا ہوئی تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔





