احتجاج کا خطرہ بڑھ گیا، شوکت یوسفزئی نے حکومت کو سخت وارننگ دے دی

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شوکت یوسفزئی نے حکومت کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ذاتی معالج اور فیملی سے ملاقات کی اجازت فوری طور پر دی جائے، بصورت دیگر ملک میں حالات خراب ہو سکتے ہیں۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے کہا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق رپورٹس کے بعد عوام میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے، اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ملاقاتوں پر پابندی فوری طور پر ختم کرے۔

انہوں نے واضح کیا کہ بانی کے پیچھے پوری قوم کھڑی ہے، اور صورتحال اگر یوں ہی رہی تو احتجاجی ردعمل بھی شدت اختیار کر سکتا ہے۔

رہنما پی ٹی آئی نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس بار احتجاج شروع ہوا تو یہ ختم نہیں ہوگا، اور لوگ حالات کے پیش نظر حکومت کے خلاف شدید ردعمل دے سکتے ہیں۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ عوام شاید حکومتی دفاتر یا متعلقہ اہلکاروں کے گھروں کا بھی رخ کر سکتے ہیں، اور اس وقت پارٹی لیڈرشپ پر بے حد پریشر ہے۔

شوکت یوسفزئی نے کہا کہ ہمارے کارکنان میں غم و غصہ پایا جاتا ہے، اور اس وجہ سے ایم این ایز اور ایم پی ایز اپنے حلقوں کے دورے بھی نہیں کر پا رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ ذاتی معالجین کو بانی تک رسائی دیں تاکہ صورتحال واضح ہو اور دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہو جائے۔

یہ بھی پڑھیں : بین الاقوامی میڈیا کے دعوے ناکام: عطا تارڑ کا عمران خان کی جیل سہولیات پر ردعمل

انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ جھوٹ بول رہی ہے اور قانون کے مطابق کسی قیدی سے ملاقات روکنے کا جواز پیش نہیں کر سکتی۔

شوکت یوسفزئی نے مزید کہا کہ جیل میں بانی کو دی جانے والی سہولیات ناقص ہیں، ٹی وی کام نہیں کرتا، کتابیں فراہم نہیں کی گئیں، اور قیدیوں کے حقوق کو کوئی ختم نہیں کر سکتا۔

رہنما پی ٹی آئی نے زور دے کر کہا کہ جو بھی شخص ان مسائل میں ملوث ہے، اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، اور انہوں نے بانی کی جیل میں بہادری سے مقابلہ کرنے کی تعریف بھی کی۔

Scroll to Top