اسلام آباد: سردار لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی کو اسٹریٹ موومنٹ کا ٹاسک سونپ دیا ہے، جبکہ پارٹی قیادت کی رہائی اور صحت سے متعلق معاملات پر بھی قانونی و سیاسی اقدامات جاری ہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ انہوں نے آج سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کا غصہ اور تشویش بالکل جائز ہے، کیونکہ وہ اپنے بھائی کی صحت کے حوالے سے فکرمند ہیں۔ بہن ماں کی طرح ہوتی ہے، تنقید ان کا حق ہے، میں انہیں ہرگز موردِ الزام نہیں ٹھہراؤں گا، انہوں نے کہا۔
لطیف کھوسہ نے مؤقف اختیار کیا کہ عدلیہ اور آئین کو پامال کیا گیا ہے اور وکلا محدود دائرہ اختیار میں رہ کر ہی مقدمات کی پیروی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جسے مختار نامہ دیا جاتا ہے وہی عدالت میں بحث کر سکتا ہے۔
سلمان صفدر اس کیس میں باقاعدہ وکیل نہیں تھے، اسی لیے انہیں فرینڈ آف دی کورٹ مقرر کیا گیا، تاہم ان کی سفارشات پر عملدرآمد نہیں ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو علاج کے حوالے سے مطمئن کیا جائے۔
ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو جیل میں تین مرتبہ فوڈ پوائزننگ کا سامنا کرنا پڑا اور اہل خانہ کو جیل تک رسائی بھی نہیں دی جا رہی۔ بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کوئی کمپرومائز نہیں ہوسکتا، انہوں نے زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں : الہان عمر اور رشیدہ طلیب کو امریکا سے نکالا جائے، ٹرمپ کا اعلان
سیاسی حکمت عملی سے متعلق بات کرتے ہوئے لطیف کھوسہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی کو اسٹریٹ موومنٹ کی ذمہ داری دی ہے۔
ان کے بقول وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے بھی اس تناظر میں رہائی فورس کے قیام کا اعلان کیا ہے، جس کے ذریعے نوجوانوں کو متحرک کیا جائے گا۔
انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے اس کا عشرِ عشیر بھی آصف علی زرداری کے ساتھ نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ پیپلز پارٹی میں تھے تو زرداری کی رہائی کے لیے باقاعدہ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔
رہنما تحریک انصاف نے امید ظاہر کی کہ عدالت میں زیرِ سماعت علاج سے متعلق کیس کی جلد سماعت ہوگی اور قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے انصاف فراہم کیا جائے گا۔





