پشاور: افغان باشندوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، ایک ہزار سے زائد گرفتار، تھانے اور جیلیں بھر گئیں

پشاور: افغان باشندوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، ایک ہزار سے زائد گرفتار، تھانے اور جیلیں بھر گئیں

کاشف الدین سید

پشاور پولیس نے شہر کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے گزشتہ دو روز کے دوران 1044 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

اس بڑے پیمانے پر ہونے والی گرفتاریوں کے باعث پشاور کے تھانے اور سینٹرل جیل قیدیوں سے بھر چکے ہیں جبکہ کارخانوں مارکیٹ اور دیگر تجارتی مراکز میں پولیس کی جیل بسیں گشت کر رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد کے خلاف 14 فارن ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر کے انہیں عدالتوں میں پیش کیا گیا ہے۔ پاک افغان کشیدگی کے تناظر میں کیے جانے والے اس آپریشن کے دوران جوڈیشل کمپلیکس پشاور میں غیر معمولی رش دیکھا گیا، جہاں سینکڑوں گرفتار افراد اور ان کے لواحقین موجود رہے

جوڈیشل مجسٹریٹ نے قانونی دستاویزات رکھنے والے افراد کو رہا کرنے کے احکامات جاری کیے، جبکہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

آپریشن کے دوران یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ کئی پاکستانی شہریوں کو بھی شک کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا ہے۔ دوسری جانب، پاک افغان سرحد کی بندش کے باعث پولیس اور انتظامیہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

پہلے گرفتار افغان باشندوں کو ناصر باغ ڈیپورٹیشن کیمپ منتقل کر کے افغانستان بھیجا جاتا تھا، لیکن بارڈر بند ہونے کی وجہ سے اب انہیں طویل عرصے تک جیلوں میں رکھنا ایک چیلنج بن گیا ہے۔

پشاور پولیس کا کہنا ہے کہ اس کریک ڈاؤن کا مقصد شہر میں امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنا اور کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے کا تدارک کرنا ہے۔ پولیس کے مطابق غیر قانونی مقیم افراد کی جانچ پڑتال کا یہ سلسلہ مزید تیز کیا جائے گا تاکہ سیکورٹی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔

Scroll to Top