کابل: افغان طالبان وزارت دفاع نے بگرام ایئر بیس پر پاکستانی فضائیہ کے حالیہ حملے کی تفصیلی ڈیمیج رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں حملے سے ہونے والی تباہی کی مکمل تفصیلات شامل ہیں۔
دستاویز کے مطابق یہ حملہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا اور شدید تھا جس نے نہ صرف اہم عسکری سازوسامان کو نقصان پہنچایا بلکہ فضائی اور زمینی دفاع کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔
🚨 افغان طالبان وزارتِ دفاع کی جاری کردہ ڈیمیج رپورٹ میں بگرام ایئر بیس پر پاکستانی فضائیہ کے حملے سے ہونے والی تباہی کی تفصیلات سامنے آ گئیں
رپورٹ کے مطابق حملے میں بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز، ہرکولیس کارگو طیارہ، ٹوکانو طیارہ، بکتر بند گاڑیاں اور دیگر اہم عسکری سازوسامان تباہ ہوا۔… https://t.co/AdwREeWbBs pic.twitter.com/BiD23EDIRu
— Eagle Eye (@zarrar_11PK) March 2, 2026
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حملے میں تین UH-60 بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز، ایک C-130 ہرکولیس کارگو طیارہ، ایک A-29 سپر ٹوکانو طیارہ، اور سات MD-530 کیوس وارئیر ہیلی کاپٹرز مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔
اس کے علاوہ M1151 بکتر بند گاڑیوں کو شدید دھماکوں کا سامنا کرنا پڑا اور چالیس M4 اور M16 رائفلز سمیت دیگر چھوٹے ہتھیار بھی تباہ یا جل گئے ہیں۔
مزید برآں پانچ ملی میٹر اور سات ملی میٹر کی گولیاں اور دیگر ایمونیشن مکمل طور پر ضائع ہو چکی ہیں جبکہ دو ہزار سے زائد جدید نگرانی اور نظر رکھنے والے ڈرونز بھی اس حملے میں جل چکے ہیں۔
دستاویز میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس حملے میں امریکی ساختہ GBU-54 اور JDAMs 500 بم استعمال کیے گئے جو بگرام ایئر بیس کو شدید نقصان پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس حملے کے دوران ایک بہت بڑا دھماکہ بھی ہوا جس نے وسیع پیمانے پر تباہی مچائی۔
یہ بھی پڑھیں : ژوب سیکٹر میں پاک فوج کی بھرپور کارروائی، افغان طالبان کا بکتر بند یونٹ تباہ
افغان وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یہ حملہ فوجی تنصیبات کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے اور اس سے بگرام ایئر بیس کی دفاعی صلاحیت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
افغان طالبان کی طرف سے جاری کردہ اس رپورٹ پر پاکستانی فضائیہ کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ حملہ بگرام ایئر بیس پر ہونے والی تازہ ترین کاروائیوں کا حصہ ہے جو خطے میں کشیدگی کے بڑھنے کی عکاسی کرتا ہے اور اس سے امن و امان کی صورتحال مزید نازک ہو سکتی ہے۔





