شاہد جان
پشاور: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اور بے تحاشہ اضافے نے عوام پر مہنگائی کا ایک اور بوجھ ڈال دیا ہے، اس بارے میں سابق وزیراعلیٰ و چئیرمین پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین محمود خان نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔
محمود خان نے کہا کہ پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے عوام کے لیے یہ فیصلہ شدید تشویش اور مایوسی کا باعث ہے۔ ان کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا اثر صرف سفری اخراجات تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس سے روزمرہ ضروریات اور خوراک کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوامی مشکلات کا سنجیدگی سے احساس کرتے ہوئے فوری طور پر اس پالیسی پر نظرثانی کی جائے اور مہنگائی کے اس طوفان کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں : پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر تک اضافہ عوام دشمن فیصلہ ہے، ایمل ولی خان
اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل محمد ہمایون خان نے بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 55 روپے اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
ہمایون خان نے کہا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں دوسری مرتبہ قیمتوں میں اضافہ انتہائی افسوسناک اور عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس اضافے کے نتیجے میں مہنگائی کی نئی لہر آئے گی جس سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مزید بڑھیں گی اور عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔
موجودہ حالات میں عوام پہلے ہی شدید مہنگائی کا شکار ہیں، ایسے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کی نئی لہر لائے گا، شفیع جان
ہمایون خان نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ واپس لے اور عوام کو ریلیف فراہم کرے۔
ان کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف عوام بلکہ ملکی معیشت کے لیے بھی نقصان دہ ہے اور عوام دوست پالیسیوں کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ مہنگائی پر قابو پانے اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عام شہری کی زندگی مزید اجیرن نہ ہو۔





