اجمل سہیل کسی خاص ایجنڈے کے تحت پاکستان اور چین کے تعلقات میں دراڑ ڈالنے کی کوشش، دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ میں غلط بیانی سامنے آئی۔
بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ میں شائع ہونے والے اجمل سہیل کے ایک انٹرویو کے بعد سوشل میڈیا اور تجزیہ کاروں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
اس انٹرویو میں جنوبی ایشیا کے امور کی صحافی سُدھا رام چندرن نے اجمل سہیل کو ایک انٹیلیجنس اینالسٹ کے طور پر متعارف کراتے ہوئے ان سے آئی ایس آئی، چین اور داعش خراسان (آئی ایس کے پی) سے متعلق بات چیت کی۔
تاہم مبصرین اور ناقدین کا کہنا ہے کہ انٹرویو میں اجمل سہیل کی سیاسی وابستگیاں اور پس منظر ظاہر نہیں کیے گئے جبکہ وہ حقیقت میں اسرائیل سے روابط رکھنے والی افغان لبرل پارٹی کے بانی ہیں۔
مبصرین کے مطابق اجمل سہیل نے خاص ایجنڈے کے تحت پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے اور پاکستان اور چین کے تعلقات میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کی۔
اجمل سہیل نے بظاہر ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت نہ صرف پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا پھیلانے کی کوشش کی بلکہ پاکستان اور چین کے تاریخی اور مضبوط تعلقات میں رخنہ ڈالنے اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی، تاکہ سیاسی انتشار اور عالمی سطح پر پاکستان کے موقف کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
اسی سلسلے میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ اجمل سہیل ماضی میں اسرائیلی انسٹیٹیوٹ فار ریجنل فارن پالیسی کو بھی انٹرویو دے چکے ہیں، جس میں انہوں نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور آئی ایس کے پی کے حوالے سے گفتگو کی۔
اسرائیل سے روابط رکھنے والے اور افغانستان میں سرگرم افغان لبرل پارٹی کے بانی اجمل سہیل حقیقت میں کسی بھی قسم کے انٹیلی جنس تجزیہ کار نہیں ہیں لیکن بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ نے ان کے بارے میں شائع ہونے والے حالیہ انٹرویو میں انہیں ایک معتبر انٹیلی جنس تجزیہ کار کے طور پر پیش کیا جو بعد میں واضح طور پر غلط بیانی اور مبالغہ آرائی کے زمرے میں آتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنگی محاذ کے بعد افغان طالبان کو سوشل میڈیاپر بھی رسوائی کا سامنا، جھوٹا پراپیگنڈا بے نقاب
ماہرین کا کہنا ہے کہ حساس سیاسی اور سیکیورٹی معاملات پر تجزیہ کار کی رائے لیتے وقت ان کے پس منظر اور وابستگیوں کو واضح کرنا صحافتی شفافیت کے لیے ضروری ہے۔ تاہم اس معاملے پر اب تک دی ڈپلومیٹ یا سُدھا رام چندرن کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔





