افغان طالبان پر اعتماد کرنا ممکن نہیں، فتنہ الخوارج کا خاتمہ جاری رہے گا، وزیردفاع

اسلام آباد: وزیردفاع خواجہ آصف نے افغانستان کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان حکومت اور عوام پر اعتماد کرنا مشکل ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان سے پاکستان میں حملے ہو رہے ہیں اور ہمیں اپنے تحفظ کے لئے اپنی کارروائیاں جاری رکھنی ہوں گی۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ افغانستان ہمیشہ دہشتگردوں کی حمایت کرتا رہا ہے، اور اگر افغان حکومت کا ساتھ نہ ہوتا تو یہ دہشتگرد گروہ بہت پہلے ختم ہو چکے ہوتے۔

ایک خصوصی گفتگو کے دوران خواجہ آصف نے کہا کہ افغانستان سے بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کی کوششیں کی گئیں، مگر افغان حکومت پر مزید بھروسہ کرنا ایک بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق افغان حکومت کا موجودہ رویہ نہ ماضی میں قابل قبول تھا، نہ آج ہے اور نہ مستقبل میں ہوگا۔

خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ افغانستان کی حمایت کے بغیر پاکستان میں سرگرم دہشتگرد گروہ جیسے ٹی ٹی پی کا وجود نہیں ہوتا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان کو افغانستان کے خطرات سے نپٹنے کے لئے اپنے آپریشنز جاری رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ صورتحال کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں : نور ولی محسود کابل کے سفارتی علاقے میں پناہ لیے ہوئے ہیں، صحافی حامد میر کا دعویٰ

وزیردفاع نے بھارت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ براہ راست جنگ کا تجربہ کیا، لیکن پاکستان نے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست دے کر ثابت کر دیا کہ وہ کسی بھی صورت حال کا سامنا کر سکتا ہے۔

اس کے علاوہ خواجہ آصف نے عالمی سطح پر پیٹرولیم کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کو بھی تسلیم کیا اور ایران اور دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ بھائی چارہ کے جذبات کا اظہار کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ مشکل وقت عارضی ہوگا اور اس جنگ کا کوئی حل نکال لیا جائے گا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اپنے آپ کو افغانستان سے بڑھتے ہوئے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے، اور جب تک یہ خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا، آپریشنز جاری رہیں گے۔

Scroll to Top