وزیراعظم نے کہا کہ امن کو لاحق خطرات ہم سب کیلئے تشویشناک کا باعث ہیں۔
خطے کی موجودہ صورتحال پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج میں خطے کو درپیش ایک نہایت سنجیدہ اور پرخطر صورتحال کے بارے میں آپ سے مخاطب ہوں، بدقسمتی سے پورا خطہ بشمول ایران اور مشرق وسطیٰ اس وقت شدید جنگی صورتحال کی لپیٹ میں ہے۔ معصوم انسانی جانوں کا ضیاع، بے گھر ہونے والے خاندانوں کی تکلیف اور امن کو لاحق خطرات ہم سب کیلئے گہری تشویش کا باعث ہیں۔ پاکستان اس کشیدہ صورتحال میں کوشش کررہا ہے کہ معاملات تدبر اور سفارتکاری کے ذریعے حل ہوں۔
انہوں نے کہاکہ دوسری جانب ہمیں اپنی مغربی سرحدوں پر بھی دہشتگردی کا سامنا ہے ، افغانستان میں موجود دہشتگردوں کے سہولت کاروں کی جانب سے ہونے والی دراندازی اور حملوں کے جواب میں ہماری بہادر افواج ، ہمارے بہادر سپہ سالار سید عاصم منیر کی لیڈر شپ میں وطن عزیز کی سلامتی، شہریوں کے جان و مال کی حفاظت یقینی بنانے کا مقدس فریضہ انتہائی جافشانی کے ساتھ ادا کر رہی ہیں جن پر انہیں سلام پیش کرتاہوں ۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی شہادت پر پاکستان گہرے دکھ کا اظہار کرتا ہے، ایران پر ہونیوالے اسرائیلی حملوں کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سعودی عرب، کویت، قطر، بحرین اور دیگر ملکوں پر حملوں کی بھی بھرپور مذمت کرتا ہے۔ خلیجی ملکوں پر حملوں سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں، پاکستان آزمائش کی گھڑی میں ان ملکوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑا ہے اور ان کی سلامتی کو اپنی سلامتی کا حصہ سمجھتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہماری معیشت کا انحصار خلیج سے آنے والے تیل اور گیس پر ہے، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 60 سے بڑھ کر 100 ڈالرز سے تجاوز کرچکی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ عالمی صورتحال کو دیکھتے ہوئے پاکستان نے مشکل فیصلے کئے۔تیل کی قیمتوں میں اضافہ دل پر پتھر رکھ کر کیا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ تجویز کیا گیا تھا لیکن ہم نے درمیانی راستہ نکالا تاکہ عوام پر کم بوجھ پڑے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ حالات ٹھیک نہ ہوئے تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پھر بڑھیں گی، تاہم حکومت ہر ممکن کوشش کررہی ہے کہ مشکل حالات کے باوجود معیشت کو مستحکم رکھا جائے۔
کفایت شعاری مہم کے حوالے سے وزیراعظم نے اعلان کیا کہ آئندہ دو ماہ کے لیے سرکاری محکموں کی گاڑیوں کو ملنے والے ایندھن میں 50 فیصد کمی کی جارہی ہے جس سے ایمبولینسز اور عوامی استعمال کی بسیں مستثنیٰ ہوں گی جبکہ 60 فیصد سرکاری گاڑیاں گراؤنڈ کی جارہی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ کابینہ کے تمام ارکان، وزرا، مشیر اور معاونین رضاکارانہ طور پر دو ماہ کی تنخواہ نہیں لیں گے جبکہ ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں بھی 25 فیصد کٹوتی کی جارہی ہے۔ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران جن کی تنخواہ 3 لاکھ سے زائد ہے ان کی تنخواہ سے دو دن کی کٹوتی کرکے عوامی ریلیف کے لیے استعمال کی جائے گی۔ تمام محکموں کے تنخواہوں کے علاوہ اخراجات میں 20 فیصد کٹوتی اور اشیا کی خریداری پر مکمل پابندی ہوگی۔
وزیراعظم نے مزید اعلان کیا کہ سرکاری افسران، مشیران، وفاقی و صوبائی وزرا اور گورنرز کے بیرون ملک دوروں پر پابندی ہوگی اور ٹیلی کانفرنسنگ کو ترجیح دی جائے گی۔ سرکاری عشائیوں، افطار پارٹیوں اور ہوٹلوں میں سیمینارز پر مکمل پابندی ہوگی جبکہ سیمینارز سرکاری مقامات پر ہوں گے۔
ایندھن اور توانائی کی بچت کے لیے انتہائی ضروری سروسز کو چھوڑ کر 50 فیصد اسٹاف گھر سے کام کرے گا اور ہفتے میں صرف چار دن دفاتر کھلیں گے۔ رواں ہفتے کے آخر سے تمام اسکولوں کو دو ہفتوں کی چھٹیاں دی جارہی ہیں جبکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں آن لائن کلاسز کا اجرا کیا جارہا ہے۔





