پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے صوبائی سرکاری ملازمین کی ترقی کے عمل کو مزید منظم، شفاف اور میرٹ پر مبنی بنانے کے لیے نئے قواعد و ضوابط جاری کر دیے ہیں۔
محکمہ انتظامیہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، خیبرپختونخوا سول سرونٹس پروموشن رولز 2026 وزیر اعلیٰ کی منظوری کے بعد نافذ کر دیے گئے ہیں اور ان کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔
نئے نظام کے تحت صوبے میں دو صوبائی سلیکشن بورڈز قائم کیے گئے ہیں۔ پہلا بورڈ اعلیٰ درجات (گریڈ 19 سے 21) کی ترقی کے معاملات دیکھے گا جبکہ دوسرا بورڈ درمیانی درجات کی ترقی کے لیے سفارشات مرتب کرے گا۔
اعلیٰ سطح کے بورڈ کی سربراہی چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کریں گے جبکہ دوسرے بورڈ کی صدارت ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنرل کریں گے۔ اس کے علاوہ مختلف محکموں اور اضلاع کی سطح پر محکمانہ ترقیاتی کمیٹیاں بھی تشکیل دی جائیں گی جو ابتدائی جانچ کے بعد اپنی سفارشات متعلقہ بورڈز کو ارسال کریں گی۔
یہ بھی پڑھیں : صدر ٹرمپ کا بڑا دعویٰ: ایران کے خلاف جنگ خاتمے کے قریب ہے
نئے قواعد کے مطابق گریڈ 19 سے 21 تک کے عہدے انتخابی عہدے ہوں گے، جہاں ترقی کا فیصلہ کارکردگی رپورٹس، تربیتی جائزہ اور انتخابی بورڈ کے مجموعی فیصلے کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ جبکہ گریڈ 18 اور اس سے کم کے عہدے غیر انتخابی ہوں گے جہاں ترقی بنیادی طور پر سنیارٹی اور کارکردگی کے اصول کے تحت ہوگی۔
ترقی کے نئے طریقہ کار کے تحت گریڈ 18 میں ترقی کے لیے صرف کارکردگی رپورٹس کو مکمل وزن دیا جائے گا جبکہ گریڈ 19 اور اس سے اوپر کے عہدوں کے لیے ترقی کا معیار تین حصوں پر مشتمل ہوگا: 40 فیصد کارکردگی رپورٹس، 30 فیصد تربیتی جائزہ اور 30 فیصد انتخابی بورڈ کے مجموعی جائزے کو دیا جائے گا۔
قواعد میں ترقی کے لیے ملازمین کی سروس کی مدت بھی واضح کی گئی ہے۔ گریڈ 18 میں ترقی کے لیے گریڈ 17 میں کم از کم پانچ سال، گریڈ 19 کے لیے بارہ سال، گریڈ 20 کے لیے سترہ سال اور گریڈ 21 کے لیے بائیس سال کی مجموعی سرکاری سروس ضروری ہوگی۔ اسی طرح اعلیٰ عہدوں پر ترقی کے لیے لازمی تربیتی کورسز بھی مقرر کیے گئے ہیں۔ گریڈ 18 سے گریڈ 19 میں ترقی کے لیے درمیانی کیریئر انتظامی کورس، گریڈ 19 سے 20 میں سینئر انتظامی کورس اور گریڈ 20 سے 21 میں قومی انتظامی یا قومی دفاعی ادارے کے خصوصی کورس لازمی ہوگا۔
ترقی کے لیے کم از کم نمبروں کی حد بھی مقرر کی گئی ہے۔ گریڈ 18 کے لیے ساٹھ فیصد، گریڈ 19 کے لیے پینسٹھ فیصد، گریڈ 20 کے لیے ستر فیصد اور گریڈ 21 کے لیے پچھتر فیصد نمبر حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ اگر کوئی ملازم مقررہ معیار پر پورا نہیں اترتا تو اسے ترقی کے لیے اہل نہیں سمجھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا میں ایندھن بچاؤ ایمرجنسی پلان، سرکاری گاڑیوں اور سفر پر بڑی پابندیاں
اعلامیے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ وہ ملازمین جو کسی تادیبی کارروائی کا سامنا کر رہے ہوں، خلاف ضابطہ سرگرمیوں میں ملوث ہوں، بیرون ملک رخصت پر ہوں یا طویل عرصے سے کسی دوسرے ادارے میں تعینات ہوں، ان کی ترقی کا معاملہ اس وقت تک موخر رکھا جائے گا جب تک وہ ان شرائط سے آزاد نہ ہو جائیں۔
مزید برآں سزا یافتہ ملازمین کے لیے نمبروں میں کٹوتی کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ کسی بڑی سزا کی صورت میں پانچ نمبر، معمولی سزا پر تین نمبر جبکہ منفی کارکردگی رپورٹ کی صورت میں فی رپورٹ ایک نمبر کم کیا جائے گا۔
اسی طرح اگر کسی افسر کی ترقی کی منظوری ہو جائے لیکن وہ ایک سال کے اندر اپنے نئے عہدے کا چارج نہ سنبھالے تو اس کی ترقی خود بخود ختم تصور کی جائے گی۔ ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچنے والے ملازمین کو کچھ رعایت دی گئی ہے۔ اگر کوئی افسر ریٹائرمنٹ سے دو سال پہلے ترقی کے لیے زیر غور ہو تو اسے لازمی تربیتی کورسز سے استثنی دیا جا سکتا ہے، تاہم اس کے لیے مخصوص نمبروں کا نظام بھی رکھا گیا ہے۔
محکمہ انتظامیہ نے تمام انتظامی محکموں کو ہدایت کی ہے کہ انتخابی بورڈ کی سفارشات اور مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد زیادہ سے زیادہ تیس دن کے اندر ترقی پانے والے ملازمین کی تعیناتی کے احکامات جاری کیے جائیں۔ غیر ضروری تاخیر کی صورت میں متعلقہ حکام سے جواب طلبی کی جا سکتی ہے۔
نئے قواعد خیبرپختونخوا میں سرکاری ملازمین کی ترقی کے عمل کو شفاف، منظم اور میرٹ پر مبنی بنانے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیے جا رہے ہیں۔





