ضم اضلاع میں سکولوں کی سولرائزیشن منصوبہ شدید تاخیر کا شکار، ہزاروں طلبہ بجلی سے محروم

پشاور: خیبرپختونخوا کے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں اسکولوں کو سولر توانائی فراہم کرنے کے لیے شروع کیا گیا اربوں روپے کا سولرائزیشن منصوبہ بدانتظامی اور فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث شدید تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔

سرکاری دستاویزات اور نجی ٹی وی رپور ٹ کے مطابق یہ منصوبہ 2023 میں مکمل ہونا تھا، تاہم اب تک صرف آدھے سے بھی کم سکولوں میں سولر سسٹم نصب کیا جا سکا ہے اور نئے شیڈول کے مطابق اس کی تکمیل 2028 تک ممکن ہو گی۔

اس منصوبے کا مقصد ضم شدہ قبائلی اضلاع کے سکولوں کو بجلی کی سہولت فراہم کرنا اور تعلیمی سرگرمیوں کو متاثر ہونے سے بچانا تھا، جہاں قومی گرڈ سے بجلی کی فراہمی نہ ہونے کے برابر ہے۔

منصوبے کے تحت ضلع کرم، خیبر، باجوڑ، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، ایف آر بنوں، ٹانک اور دیگر اضلاع کے 1125 سکولوں کو سولر توانائی پر منتقل کیا جانا تھا۔

ابتدائی طور پر تقریباً ایک ارب روپے کی لاگت سے یہ منصوبہ شروع کیا گیا تھا، لیکن فنڈز کی عدم دستیابی اور انتظامی سست روی کے باعث صرف 582 سکولوں میں ہی سولر سسٹم نصب کیا جا سکا۔

ضلع کرم کے 66 سکولوں میں سے صرف 26 سکولوں میں سولر سسٹم نصب ہوا، شمالی وزیرستان کے 71 سکولوں میں سے صرف 8 سکولوں کو سولر پر منتقل کیا جا سکا، جبکہ درازندہ، ایف آر بنوں اور ٹانک کے تقریبا 350 سکولوں میں تنصیب ابھی باقی ہے۔

تاخیر کے باعث منصوبے کی لاگت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور ہزاروں طلبہ آج بھی بجلی کی سہولت سے محروم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا حکومت کی سبسڈی: 2200 روپے لینے کا آسان طریقہ جانیں

سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انتظامی مسائل اور فنڈز کی بروقت عدم ادائیگی اس منصوبے میں تاخیر کی بنیادی وجوہات ہیں، اور منصوبے کی تکمیل کے لیے نئی ڈیڈ لائن 2028 مقرر کی گئی ہے۔

یہ تاخیر تعلیمی معیار اور طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے، کیونکہ متعدد سکول ایسے ہیں جہاں دن کے وقت بھی روشنی کی کمی کے باعث کلاسیں متاثر ہو رہی ہیں۔

منصوبے کے مکمل نہ ہونے سے نہ صرف تعلیمی سرگرمیوں میں خلل پڑ رہا ہے بلکہ سولر توانائی کے فروغ اور توانائی کے اخراجات میں کمی کے فوائد بھی ضائع ہو رہے ہیں۔

Scroll to Top