عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں شدید اُتار چڑھاؤ کے بعد دوبارہ 90 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں۔ برینٹ آئل کی قیمت 14.07 فیصد تک گر کر 84.22 ڈالر فی بیرل پر ریکارڈ کی گئی، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 16.04 فیصد کمی کے بعد 79.26 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق، صرف دو گھنٹوں کے اندر تیل کی قیمت میں 10 ڈالر فی بیرل کی کمی کے بعد دوبارہ 11 ڈالر کا اضافہ دیکھا گیا، جو عالمی منڈی میں شدید عدم استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ اتار چڑھاؤ خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد آیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ جلد ختم ہونے والی ہے اور امریکہ اپنی ابتدائی ٹائم لائن سے بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی ڈرون مینوفیکچرنگ کو نشانہ بنانے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے، جس سے تیل کی عالمی قیمتوں پر اثر پڑا ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران پر ممکنہ حملے اور جنگ کے خاتمے کے خدشات عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی اور غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں یہ اتار چڑھاؤ نہ صرف سرمایہ کاروں کے لیے چیلنج ہے بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے بھی اہم اشارہ ہے۔





