ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سمیت کئی افراد نامزد، چالان عدالت میں پیش۔
پشاور میں انسداد دہشت گردی عدالت نمبر 3 میں ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، جس میں سہیل آفریدی سمیت متعدد افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ کیس کے تفتیشی افسر نے عدالت میں چالان پیش کیا، جس میں وزیر اعلیٰ کے علاوہ سابق صوبائی وزراء تیمور سلیم جھگڑا اور کامران بنگش، ضلعی صدر عرفان سلیم اور کارکن عامر چمکنی کو بھی ملزمان کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔
چالان جمع کروانے کے دوران پولیس نے پنجاب فارنزک لیب رپورٹ اور نادرا رپورٹ کو بطور بنیاد استعمال کیا۔ تاہم تفتیشی افسر نے بتایا کہ وہ چالان عدالت میں ریکارڈ کے لیے جمع کر رہے ہیں لیکن پراسیکیوٹر اس کو وصول نہیں کر رہا۔
اس موقع پر ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیر حسین گیگیانی نے عدالت میں درخواست دائر کی کہ چالان جمع نہ کروانے پر ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر اور پبلک پراسیکیوٹر کے خلاف کارروائی کی جائے۔ عدالت نے اس درخواست پر اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کو طلب کر لیا اور آئندہ سماعت پر تفصیلی کارروائی کرنے کا حکم دیا۔
ذرائع کے مطابق عدالت 9 مئی کو سماعت کرے گی، جس دوران چالان، شواہد اور دیگر قانونی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، اور فریقین کو موقع ملے گا کہ وہ اپنے دلائل پیش کریں۔
یہ کیس ملک میں حملوں کے خلاف قانونی کارروائیوں اور اعلیٰ سطح کے عہدہ داروں کی ذمہ داریوں کے تعین کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔





