پشاور میں امریکی قونصل خانہ مستقل طور پر بند کرنے کا فیصلہ، ہر سال 7.5 ملین ڈالر کی بچت متوقع
امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان کے شمالی شہر پشاور میں اپنے قونصل خانے کو مستقل طور پر بند کر دے گا، جو افغان سرحد کے قریب امریکا کا ایک اہم سفارتی مرکز رہا ہے۔ یہ قونصل خانہ 2001 میں افغانستان پر حملے سے قبل، دوران اور بعد میں کلیدی آپریشنل اور لاجسٹک مرکز کے طور پر کام کرتا رہا۔
دی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق محکمہ خارجہ نے کانگریس کو بندش کے ارادے سے مطلع کیا اور بتایا کہ اس اقدام سے ہر سال تقریباً 7.5 ملین ڈالر کی بچت ہوگی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے یہ بھی واضح کیا کہ پشاور قونصل خانے کی بندش سے امریکا کے قومی مفادات یا پاکستان میں سفارتی سرگرمیوں پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔
ذرائع کے مطابق اس بندش پر غور ایک سال سے زائد عرصے سے کیا جا رہا تھا، جس کا آغاز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دور میں وفاقی محکموں کی تنظیم نو اور اخراجات کم کرنے کے سلسلے میں ہوا۔ محکمہ خارجہ نے یہ واضح کیا ہے کہ یہ اقدام ایران کے ساتھ جاری کشیدگی یا حالیہ مظاہروں سے متعلق نہیں ہے، جب کراچی اور پشاور کے قونصل خانے عارضی طور پر بند کیے گئے تھے۔
گزشتہ برس امریکی حکومت نے محکمہ خارجہ میں بڑے پیمانے پر کٹوتیاں کی تھیں، جن میں ہزاروں سفارتکاروں کی برخاستگی اور یو ایس ایڈ کے عملے کی تقریباً مکمل برخاستگی شامل تھی۔ پشاور قونصل خانہ محکمہ خارجہ کی تنظیم نو کے بعد بیرون ملک پہلی مکمل بند ہونے والی سفارتی مشن بن گیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پشاور قونصل خانے میں 18 امریکی سفارتکار اور دیگر سرکاری اہلکار جبکہ 89 مقامی عملہ کام کرتا تھا۔ بندش پر تقریباً 3 ملین ڈالر خرچ ہوں گے، جس میں سے 1.8 ملین ڈالر مضبوط ٹریلرز کی منتقلی پر خرچ ہوں گے، جو عارضی دفتر کے طور پر استعمال ہوئے۔ باقی رقم موٹر پول، الیکٹرانک و ٹیلی کمیونیکیشن سازوسامان اور دفتری فرنیچر کو اسلام آباد، کراچی اور لاہور میں منتقل کرنے پر استعمال ہوگی۔
پشاور قونصل خانے کی افغان سرحد اور کابل کے قریب موجودگی نے اسے افغانستان جانے کے لیے زمینی راستوں کے ذریعے اہم مرکز اور شمال مغربی پاکستان میں امریکی و افغان شہریوں کے لیے رابطے کا کلیدی نقطہ بنایا۔
محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی شہریوں اور دیگر افراد کے لیے قونصلر خدمات اب اسلام آباد میں موجود امریکی سفارت خانے کے ذریعے فراہم کی جائیں گی، جو پشاور سے تقریباً 184 کلومیٹر (114 میل) فاصلے پر واقع ہے۔
محکمہ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ قونصل خانے کی بندش سے امریکی قومی مفادات کے فروغ، شہریوں کی مدد یا بیرونی امدادی پروگراموں کی نگرانی پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ یہ تمام کام اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ذریعے جاری رہیں گے۔





