ایران سے متعلق حالیہ صورتحال کے تناظر میں بھارت کے اندر وزیراعظم مودی کی پالیسیوں پر تنقید کی آوازیں اُٹھنے لگی ہیں۔ بعض بھارتی سیاستدانوں نے حکومت کے مؤقف کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے متنازع قرار دیا ہے۔
بھارتی سیاستدان آنند بھدوریا نے اپنے بیان میں مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران بھارت کو محتاط اور متوازن کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق مودی حکومت کے اقدامات نے بھارت کو عالمی طاقتوں کے سامنے جھکانے کا تاثر دیا ہے۔
آنند بھدوریا نے مزید کہا کہ جب Gaza Strip میں جنگ جاری تھی تو ایسے وقت میں اسرائیل کے دورے نے کئی سوالات کو جنم دیا۔ ان کے مطابق حکومت کو وضاحت دینی چاہیے کہ حساس حالات میں ایسے فیصلے کس بنیاد پر کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام ممالک ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو کشیدگی میں مزید اضافہ کا سبب بن سکتے ہیں۔
بھارتی سیاستدان کے اس بیان کے بعد بھارت میں خارجہ پالیسی اور خطے میں جاری کشیدگی کے حوالے سے سیاسی بحث میں مزید شدت آ گئی ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے حکومت کے مؤقف پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔





