بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی ایک بار پھر سوشل میڈیا پر اپنی مخصوص سفارتی حکمتِ عملی کے باعث شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔ انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے تاریخی امن معاہدے کا خیرمقدم تو کیا لیکن اس میں پاکستان کا نام لینے سے دانستہ گریز کیا جس پر ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر صارفین نے ان کی شدید درگت بنا کر رکھ دی ہے۔ مودی کی ٹویٹ سامنے آتے ہی کمنٹس سیکشن جیو پولیٹیکل بحث کا میدان بن گیا جہاں ہزاروں صارفین نے مودی کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ایک صارف نے مودی کی سفارتی تنگ نظری کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا: "مودی جی کو پروڈکٹ تو بہت پسند آئی ہے، بس اس کے بنانے والے (پاکستان) کا نام لیتے ہوئے زبان پر چھالے پڑ رہے ہیں۔ یہ حسد نہیں تو اور کیا ہے؟" ایک اور صارف نے 108 دن کی طویل ثالثی کا حوالہ دیتے ہوئے تبصرہ کیاایک ایسے معاہدے پر پورا پیراگراف لکھنا اور اس ملک کا نام ہی ہضم کر جانا جس نے 108 دن رات ایک کر کے اسے ممکن بنایا، واقعی بڑی محنت کا کام ہے، لیکن مودی جی دنیا اتنی بیوقوف نہیں ہے، سب جانتے ہیں کہ یہ امن کس کی بدولت ممکن ہوا۔ ایک صارف نے کمنٹس میں پاکستانی پرچموں کی بھرمار کرتے ہوئے لکھاکہ نام مٹانے سے حقیقت نہیں بدلتی مودی صاحب! تاریخ گواہ رہے گی کہ جب دو بڑی طاقتیں جنگ کی آگ میں جل رہی تھیں، تو پاکستان نے دنیا کو امن کا راستہ دکھایا"۔ خود بھارت کے اندر سے ایک صارف نے اپنی حکومت کو آئینہ دکھاتے ہوئے لکھاکہ ہم سفارت کاری میں اتنے چھوٹے کب سے ہو گئے؟ اگر ہمارے پڑوسی نے ایک اچھا کام کیا ہے تو اسے تسلیم کرنے میں کیا حرج ہے؟ اس ٹویٹ سے پاکستان کا قد چھوٹا نہیں ہوا، بلکہ ہم عالمی برادری میں تماشہ بن رہے ہیں۔ ایک اور سوشل میڈیا صارف نے طنز کرتے ہوئے کہا: "مودی جی کا یہ ٹویٹ ایسا ہی ہے جیسے کوئی تاج محل کی تعریف کرے لیکن یہ بتانے سے انکار کر دے کہ یہ بھارت میں واقع ہے۔ ذاتی عناد کو عالمی سفارت کاری سے دور رکھیں مودی کی درگت صرف عام صارفین نے ہی نہیں بلکہ خود بھارت کے اندر سے سیاسی حلقوں نے بھی بنائی۔ بھارتی اپوزیشن رہنماؤں نے مودی کی اس سوچ کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حرکت سے بھارت عالمی سطح پر ایک چھوٹا اور الگ تھلگ ملک دکھائی دے رہا ہےجبکہ پاکستان ایک بڑے عالمی امن پسند کے طور پر ابھرا ہے۔ مبصرین کے مطابق جنگ کے آغاز میں بھارت نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ سخت موقف اپنایا تھا لیکن اب جب تنازع حل ہوا تو بھارت سفارتی طور پر کونے سے لگ چکا ہے۔ پاکستان کے کردار پر خاموشی، مودی کی ایران، امریکا معاہدے سے متعلق پوسٹ پر بھارتی شہری بھی برس پڑے

ایران کے معاملے پر مودی کو شدید تنقید کا سامنا، بھارتی سیاستدان بول پڑے

ایران سے متعلق حالیہ صورتحال کے تناظر میں بھارت کے اندر وزیراعظم مودی کی پالیسیوں پر تنقید کی آوازیں اُٹھنے لگی ہیں۔ بعض بھارتی سیاستدانوں نے حکومت کے مؤقف کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے متنازع قرار دیا ہے۔

بھارتی سیاستدان آنند بھدوریا نے اپنے بیان میں مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران بھارت کو محتاط اور متوازن کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق مودی حکومت کے اقدامات نے بھارت کو عالمی طاقتوں کے سامنے جھکانے کا تاثر دیا ہے۔

آنند بھدوریا نے مزید کہا کہ جب Gaza Strip میں جنگ جاری تھی تو ایسے وقت میں اسرائیل کے دورے نے کئی سوالات کو جنم دیا۔ ان کے مطابق حکومت کو وضاحت دینی چاہیے کہ حساس حالات میں ایسے فیصلے کس بنیاد پر کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام ممالک ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو کشیدگی میں مزید اضافہ کا سبب بن سکتے ہیں۔

بھارتی سیاستدان کے اس بیان کے بعد بھارت میں خارجہ پالیسی اور خطے میں جاری کشیدگی کے حوالے سے سیاسی بحث میں مزید شدت آ گئی ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے حکومت کے مؤقف پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

Scroll to Top