ایران کی جانب سے ابنائے ہرمزکو بند رکھنے کے اعلان کے بعد امریکا نے خطے میں اپنی فوجی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکا کےبی،2 بمبار طیارے ایران کی سمت روانہ کر دیے گئے ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں مزید امریکی فوج بھیجنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں United States Central Command (سینٹ کام) نے کہا کہ بی-2 بمبار طیارے روانہ کرنے کا مقصد طویل فاصلے سے کارروائی کی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے ممکنہ خطرات کو کم کرنا اور مستقبل میں ایرانی عسکری صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔
دریں اثنا مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث امریکا نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی اخبار The Wall Street Journal کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے ہزاروں امریکی میرینز کو مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اقدام سینٹ کام کی درخواست پر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ درخواست ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ایران کی جانب سے خلیج ہرمز میں جہازوں پر حملوں اور بارودی سرنگیں بچھانے جیسے اقدامات کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جس کے باعث اس اہم بحری گزرگاہ میں جہاز رانی متاثر ہوئی ہے۔ اس صورتحال نے عالمی معیشت اور ایندھن کی قیمتوں پر بھی اثرات ڈالے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق دو امریکی حکام نے بتایا کہ 31 ویں میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ کو مشرقِ وسطیٰ روانہ ہونے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ تقریباً 2200 اہلکاروں پر مشتمل یہ یونٹ تین بحری جہازوں پر مشتمل ہے اور عام طور پر جاپان میں تعینات رہتا ہے جہاں یہ ہند-بحرالکاہل کمانڈ کے تحت کام کرتا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 200 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق لڑاکا طیاروں نے متعدد فضائی حملے کیے جن میں ایرانی فوجی تنصیبات، اسلحہ سازی کے مراکز اور ذخیرہ گاہوں کو ہدف بنایا گیا۔
اسی دوران امریکا نے جنوبی کوریا میں نصب دفاعی نظام THAAD کو اسرائیل منتقل کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے تاکہ اس کے دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ Iran، United States اور اسرائیل کے رہنماؤں کی جانب سے سخت بیانات اور جوابی اقدامات کے باعث خطے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق جاری جنگ نے نہ صرف لاکھوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ جنگ کے تیسرے ہفتے کے آغاز کے ساتھ امریکا اور اس کے اتحادی ایرانی فوجی ٹھکانوں، میزائل تنصیبات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ ایران بھی جواباً میزائل حملے کر رہا ہے۔





