بے روزگاری کا مرحلہ اکثر افراد کے لیے ذہنی دباؤ اور بے یقینی کا باعث بن جاتا ہے، اس دوران انسان مختلف خدشات اور منفی خیالات میں گھِر جاتا ہے اور بظاہر خالی نظر آنے والا وقت پریشانیوں میں گزرنے لگتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر اس دور کو مثبت انداز میں استعمال کیا جائے تو یہی وقت مستقبل میں بہتر مواقع حاصل کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
عرب میگزین میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق بے روزگاری کا عرصہ دراصل اپنی پیشہ ورانہ مہارتوں کو نکھارنے اور نئے روابط قائم کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے، تعلقات عامہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دوران اپنے پیشہ ورانہ نیٹ ورک کو وسیع کرنا نہایت فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بہت سے لوگ ملازمت ختم ہونے کے بعد سابقہ ساتھیوں اور اداروں سے رابطہ کم کر دیتے ہیں حالانکہ یہی تعلقات مستقبل میں نئی ملازمت کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ ممکن ہے کہ ماضی میں ساتھ کام کرنے والا کوئی فرد کسی نئی کمپنی میں اہم عہدے پر ہو اور وہ آپ جیسے افراد کی تلاش میں ہو۔
اس کے علاوہ ڈیجیٹل دنیا میں سرگرم رہنا بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اپنے شعبے سے متعلق آن لائن مباحثوں یا گفتگو میں حصہ لینے سے نہ صرف علم میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ یہ عمل نئے لوگوں سے رابطے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق رضاکارانہ سرگرمیوں میں حصہ لینا بھی بے روزگاری کے دوران مفید ثابت ہوتا ہے، سماجی اداروں کے ساتھ کام کرنے سے انسان مصروف رہتا ہے اور مختلف افراد اور اداروں سے تعارف بڑھتا ہے جس کے نتیجے میں ملازمت کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں، اسی طرح مقامی سطح پر منعقد ہونے والی کانفرنسز اور سیمینارز میں شرکت بھی فائدہ مند رہتی ہے۔
اس دوران نئی مہارتیں سیکھنا بھی اہم سمجھا جاتا ہے، آن لائن کورسز یا جدید ٹیکنالوجی سے متعلق تربیت پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بناتی ہے اور فرد کو ملازمت کے لیے زیادہ موزوں امیدوار بنا سکتی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ سی وی کو اپ ڈیٹ کرنا اور اپنی صلاحیتوں کو نمایاں انداز میں پیش کرنا بھی ضروری ہے۔
صحت مند طرزِ زندگی اپنانا بھی اس مرحلے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، باقاعدہ ورزش، مناسب نیند اور منظم معمولات ذہنی دباؤ کم کرنے میں مدد دیتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ کتابیں پڑھنا، خاندان اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا اور کسی مثبت مشغلے کو اپنانا ذہنی سکون فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تبدیلی کے نعرے کہاں گئے؟ مہنگائی اور بے روزگاری پر سکندر شیرپاؤ نے سہیل آفریدی کو آڑے ہاتھوں لے لیا
ماہرین کے مطابق اگر ممکن ہو تو اپنی مہارت کے مطابق آن لائن کام یا فری لانسنگ بھی کی جا سکتی ہے، جس سے نہ صرف کچھ آمدنی حاصل ہو سکتی ہے بلکہ نئے پیشہ ورانہ روابط بھی قائم ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بے روزگاری کا دور دراصل خود احتسابی اور ذاتی بہتری کا موقع بھی فراہم کرتا ہے، اور اگر اس وقت کو دانشمندی سے استعمال کیا جائے تو یہی مرحلہ مستقبل کی کامیابی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔





