باجوڑ: مقامی سکیورٹی کمانڈر نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کر کے ہمدردی کا اظہار کیا

باجوڑ: باجوڑ کی تحصیل سالارزئی کے پاک-افغان سرحدی علاقے لیٹی تاری پشہ میں گزشتہ روز افغان فورسز کی جانب سے داغا گیا ایک مارٹر گولہ ایک رہائشی گھر پر گرا، جس کے نتیجے میں چار بھائی شہید اور ایک شخص شدید زخمی ہوا۔

اس المناک واقعے کے بعد مقامی سکیورٹی فورسز کے کمانڈر نے متاثرہ خاندان کے گھر پہنچ کر ان کے دکھ درد میں شریک ہونے کی کوشش کی۔

کمانڈر کے ساتھ علاقے کے مقامی عمائدین، اہلِ علاقہ اور سکیورٹی اہلکار بھی موجود تھے۔کمانڈر نے لواحقین سے ملاقات کی، ان سے اظہارِ ہمدردی کیا اور تعزیت کا پیغام دیا۔

انہوں نے متاثرہ خاندان کے ساتھ کچھ وقت گزارا اور دکھ کے اس لمحے میں ان کے ساتھ کھڑے ہونے کا یقین دلایا۔

مقامی سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد فوری اقدامات کیے گئے اور علاقے کی حفاظت کے لیے اضافی سکیورٹی تعینات کی گئی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں : باجوڑ میں افغان طالبان کا بے گناہ شہریوں پر حملہ، 4 بھائی شہید، ایک بچہ زخمی ہوا، وزیر اطلاعات

جبکہ دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے سرحدی ضلع باجوڑ میں افغان طالبان کی جانب سے سرحد پار گولہ باری کے نتیجے میں چار شہری شہید جبکہ ایک پانچ سالہ بچہ شدید زخمی ہو گیا۔

وزیر اطلاعات کے مطابق 15 مارچ کو سہ پہر تقریباً ساڑھے تین بجے افغانستان کی جانب سے توپ خانے اور مارٹر گولوں کے ذریعے تحصیل سالارزئی کے علاقے تبستہ لیٹئی میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا، گولہ باری کے دوران ایک رہائشی مکان پر گولہ گرنے سے چار افراد موقع پر ہی شہید ہو گئے جبکہ ایک کمسن بچہ شدید زخمی ہو گیا۔

عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ شہید ہونے والوں کی شناخت ساجد، ایاز، ریاض اور معاذ کے ناموں سے ہوئی ہے اور چاروں آپس میں حقیقی بھائی تھے، واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور مقامی لوگوں نے اس حملے کی سخت مذمت کی ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ شہری آبادی کو دانستہ نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور بنیادی انسانی اقدار کی سنگین خلاف ورزی ہے، یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردوں اور ان کے معاون ڈھانچے کے خلاف آپریشن غضب لِلحق کے تحت کارروائیاں کر رہی ہیں۔

Scroll to Top