خیبر پختونخوا میں سینکڑوں قیدی خصوصی مواقع پر معافیاں نہ ملنے کے باعث جیلوں میں پھنس گئے ہیں اور امکان ہے کہ یہ قیدی عید کی خوشیاں جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزاریں۔
قیدیوں نے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے تحریری درخواست میں معافیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور امتیازی سلوک کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ قیدیوں کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے قانون کے تحت قید رکھا گیا ہے جس کا اطلاق ان کے کیسز پر آئین پاکستان کے مطابق نہیں ہوتا، جبکہ پاکستان کے دیگر صوبوں میں اسی نوعیت کے مقدمات میں قیدیوں کو معافیاں دی گئی ہیں۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالت عالیہ کے احکامات کے باوجود قیدیوں کو رہا نہیں کیا جا رہا، جو کہ توہین عدالت کے مترادف ہے۔ قیدیوں کا موقف ہے کہ سینکڑوں افراد معافیاں ملنے کے بعد جیل سے باہر آ سکتے ہیں، مگر بدقسمتی سے غریب اور محتاج قیدی غیر آئینی و غیر قانونی اضافی قید کاٹنے پر مجبور ہیں۔
قیدیوں نے چیف جسٹس اور وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ معافیوں میں امتیازی سلوک کا فوری نوٹس لیا جائے تاکہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد ہو اور قیدی اپنی عید گھر والوں کے ساتھ گزار سکیں۔





