ایران نے اسرائیل پر میزائلوں کی بارش کر دی، عمارتیں اور گاڑیاں تباہ

ایران نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب اور دیگر علاقوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں متعدد عمارتوں اور گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

حملوں کے بعد شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ ہنگامی سروسز کو فوری طور پر متحرک کر دیا گیا۔

ایرانی کارروائی کے بعد اسرائیلی پولیس نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر صحافیوں کو متاثرہ علاقوں میں کوریج سے روک دیا، جس سے زمینی صورتحال کی مکمل تفصیلات تک رسائی محدود ہو گئی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق کئی مقامات پر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور دھوئیں کے بادل فضا میں بلند ہوتے دیکھے گئے۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ میزائلوں اور ڈرونز کی **انہتر ویں لہر** کا حصہ ہے، جس میں صیہونی ریاست کی اہم انٹیلی جنس تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

بیان کے مطابق کارروائی کے دوران جدید میزائل سسٹمز، جن میں خیبر شکن، عماد اور سجیل میزائل شامل ہیں، استعمال کیے گئے، اور ان کے ذریعے شمالی اور وسطی تل ابیب میں مخصوص اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق حملوں میں اسرائیلی فوج سے منسلک کمرشل، لاجسٹک اور سپورٹ مراکز کو بھی ہدف بنایا گیا، جس سے عسکری ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں : انٹربینک، اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ

ایرانی حکام کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیل اور امریکا کی جانب سے میڈیا کوریج پر عائد پابندیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی حکام کی جانب سے ان دعوؤں پر تاحال کوئی باضابطہ تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سیکیورٹی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں یہ حملہ صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتا ہے، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے ممکنہ ردعمل اور سفارتی سرگرمیوں پر بھی نظریں مرکوز ہیں۔

Scroll to Top