ایران کی باتوں پر مجھے صدر ٹرمپ سے زیادہ اعتماد ہے، سابق سربراہ سی آئی اے

واشنگٹن: سی آئی اے کے سابق سربراہ جان برینن نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے بارے میں موقف پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کی بجائے ایران کی باتوں پر زیادہ یقین کرتے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق جان برینن کا کہنا تھا کہ حقائق بار بار سامنے آنے کے باوجود صدر ٹرمپ انہیں تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں اور وہ اپنی تخلیق کردہ شکست سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کا یہ مؤقف کہ ایران مذاکرات کے لیے سگنل دے رہا ہے یا امریکی شرائط پر بات چیت کرنا چاہتا ہے، درست نہیں۔

سابق سی آئی اے سربراہ نے مزید کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کے دعوؤں کے برعکس ایران کی باتوں پر زیادہ اعتماد رکھتے ہیں، کیونکہ ایرانی حکومت کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ سے کسی قسم کی بات چیت دراصل جاری نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں : فلمی شائقین کے لیے خوشخبری، ڈرائیو اِن سنیما واپس آ گیا

جان برینن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکی پالیسی سازان حقیقت کو نظرانداز کر کے اپنی داخلی سیاسی ترجیحات کے تحت ایران کے حوالے سے دعوے کر رہے ہیں، جبکہ ایران کی حکومت کی اصل پوزیشن واضح اور مستقل ہے۔

ان کا مؤقف یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی ایران کے حوالے سے سیاسی بیان بازی حقیقت سے میل نہیں کھاتی اور اس طرح امریکی پالیسی میں غیر ضروری الجھن پیدا ہو رہی ہے۔

Scroll to Top