خیبرپختونخوا کے 24 ہسپتالوں میں ادویات کی خریداری میں ایک ارب 30 کروڑ روپے کی مبینہ بے ضابطگیاں، ایم ایسز کو شوکاز نوٹس جاری

خیبرپختونخوا کے 24 ہسپتالوں میں ادویات کی خریداری میں ایک ارب 30 کروڑ روپے کی مبینہ بے ضابطگیاں، ایم ایسز کو شوکاز نوٹس جاری

پشاور میں خیبرپختونخوا کے 24 سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی خریداری کے دوران ایک ارب 30 کروڑ روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد ہسپتالوں کے ایم ایسز کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔

محکمہ صحت نے مالی قواعد کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی وارننگ دی ہے اور ذمہ دار حکام سے فوری وضاحت طلب کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ہسپتالوں میں ادویات کی خریداری میں مالی نظم و ضبط نظر انداز کیا گیا اور مقررہ طریقہ کار کے برعکس ادویات خریدی گئیں۔

انکشاف ہوا ہے کہ ادویات کی ادائیگیاں ڈرگ ٹیسٹنگ کلیئرنس کے بغیر کی گئی ہیں اور مقررہ بجٹ سے زائد اخراجات بھی کیے گئے ہیں۔ متعدد ہسپتالوں میں مہنگے داموں ادویات خریدی گئی اور مقامی سطح پر خریداری میں بے ضابطگیوں کا بھی الزام ہے۔

رپورٹس کے مطابق 80 فیصد بجٹ مخصوص طریقہ کار کے بغیر خرچ کیا گیا، پچھلے سال کے بقایاجات موجودہ بجٹ سے ادا کیے گئے اور بیشتر ہسپتالوں کا ادویات کا بجٹ قبل از وقت ختم ہو گیا۔ اس صورتحال کے باعث ہسپتالوں میں ادویات خریداری کا نظام غیر مؤثر قرار دیا گیا ہے۔

محکمہ صحت نے کہا ہے کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Scroll to Top