خیبرپختونخوا میں کابینہ کی توسیع ایک بار پھر اختلافات کا شکار ہو گئی ہے، جہاں دو مجوزہ ارکان کی شمولیت پر شدید تحفظات سامنے آنے کے بعد معاملہ فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ چند روز میں اس حوالے سے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا، سہیل آفریدی نے کابینہ میں توسیع کے لیے پارٹی کی سیاسی قیادت سے مشاورت مکمل کرنے کے بعد 12 سے 14 نئے ارکان کو شامل کرنے کا ابتدائی فیصلہ کیا تھا، جس میں مختلف اضلاع کی نمائندگی کو یقینی بنانے پر غور کیا گیا۔
تاہم مجوزہ فہرست میں دو غیر منتخب افراد کی شمولیت کے معاملے پر وزیر اعلیٰ کے قریبی حلقوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے، جس کے باعث یہ عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق ان میں سے ایک کا تعلق قبائلی اضلاع جبکہ دوسرے کا جنوبی اضلاع سے بتایا جا رہا ہے، اور ان کے متبادل نام بھی زیر غور لائے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ عید سے قبل کابینہ میں توسیع کے خواہاں تھے، تاہم ملکی اور بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر اس فیصلے کو مؤخر کر دیا گیا۔ اب عیدالفطر کے بعد اس عمل کو دوبارہ آگے بڑھانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اختلافات دور کرنے کے لیے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے اور جلد ہی کابینہ میں توسیع کا باقاعدہ اعلان کیے جانے کا امکان ہے۔





