خیبر پختونخوا میں کفایت شعاری کا بڑا فیصلہ، سرکاری اخراجات میں 20 فیصد کمی کا اعلان، اعلامیہ جاری

خیبر پختونخوا اسمبلی کے افسران کی ترقی و تعیناتیوں سے متعلق سروس ٹربیونل کا بڑا فیصلہ

کامران علی شاہ
خیبر پختونخوا اسمبلی کے افسران کی ترقیوں اور تعیناتیوں کے حوالے سے سروس ٹربیونل کا تفصیلی تحریری فیصلہ سامنے آگیا ہےجس نے خلاف ضابطہ ترقی پانے والے جونیئر افسران کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

ٹربیونل نے اپنے فیصلے میں حکم دیا ہے کہ تمام افسران کی سینیارٹی کا تعین پرانے قوانین کے مطابق کیا جائے۔

تحریری فیصلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ سیکرٹری اسمبلی سمیت تمام افسران کو فی الفور آئین اور میرٹ کے مطابق ترقیاں دی جائیں۔

ٹربیونل نے واضح کیا کہ ترقیوں کا عمل کسی بھی دباؤ کے بغیر صرف ان افسران کے لیے ہونا چاہیے جو قانونی طور پر میرٹ پر پورا اترتے ہیں۔ سروس ٹربیونل کے فیصلے کی کاپی باقاعدہ طور پر صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کو ارسال کر دی گئی ہے۔

یہ فیصلہ اسسٹنٹ سیکرٹری صوبائی اسمبلی عامر خان کی جانب سے 18 ستمبر کو دائر کی گئی آئینی درخواستوں پر سماعت کے بعد جاری کیا گیا۔

عامر خان کے وکیل علی عظیم آفریدی ایڈوکیٹ نے پختون ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی اسمبلی میں ترقیاں اور تعیناتیاں غیر قانونی طریقے سے کی گئی تھیں لہٰذا ٹربیونل نے درست فیصلہ دیتے ہوئے پرانے قوانین کے تحت کارروائی کا حکم دیا ہے۔ ٹربیونل نے نئے ایکٹ اور رولز سے متعلق واضح لکھا ہے کہ اگر ایک بھی فرد متاثر ہوا تو اس کا اثر ترقی و تعیناتیوں کے تمام عمل پر پڑے گا۔

علی عظیم ایڈوکیٹ نے الزام عائد کیا کہ سپیکر صوبائی اسمبلی نے ایک مخصوص شخص کو نوازنے اور کم سروس و ڈیپوٹیشن کے باوجود اسے سیکرٹری اسمبلی تعینات کرنے کے لیے نیا ایکٹ پاس کیا تھا تاہم اب ٹربیونل کے احکامات کے بعد یہ تمام عمل پرانے قانون کے تحت ہی انجام دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ موجودہ سیکرٹری صوبائی اسمبلی دوسرے محکمے سے ڈیپوٹیشن پر آئے ہیں اور کم مدتِ ملازمت کے باوجود اس عہدے پر براجمان ہیں۔

Scroll to Top