سیکیورٹی فورسز نے عید الفطر کی تقریبات اور اسلامی ممالک کی درخواست پر دیا گیا عارضی وقفہ ختم ہونے کے بعد آپریشن غضب للحِق کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ وقفہ 23 اور 24 مارچ کی درمیانی شب بارہ بجے مکمل طور پر ختم ہو گیا جس کے ساتھ ہی آپریشنل کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں۔
یاد رہے کہ آپریشن غضب للحِق کا آغاز گزشتہ ماہ پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے متعدد مقامات پر بلا اشتعال فائرنگ اور جھڑپوں کے بعد کیا گیا تھا جس کا پاکستان کی جانب سے بھرپور جواب دیا گیا۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ایک جاری انتہائی درست اور ہدف پر مبنی فوجی مہم ہے جس کا رخ دہشت گرد قیادت، ان کے حمایتی ڈھانچے، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم، لاجسٹک نیٹ ورکس اور افغان طالبان کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں موجود تمام سہولت کاروں کی جانب ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ آپریشن اپنے مقاصد کے مکمل حصول تک جاری رہے گا۔
ذرائع نے مزید کہا کہ افغان طالبان کی حکومت کو اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے اور انہیں دہشت گردوں کی پشت پناہی کے بجائے افغان عوام کی فلاح و بہبود اور پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات پر توجہ دینی چاہیے۔





