ایران کو غلط اندازے نہیں لگانے چاہئیں، نتائج سنگین ہو سکتے ہیں، وائٹ ہاؤس ترجمان

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے پریس بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ اگر ایران نے موجودہ صورتحال میں پسپائی اختیار نہ کی تو اسے مزید سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

کیرولین لیوٹ نے بتایا کہ آپریشن ایپک فیوری میں9000 اہداف کو نشانہ بنایا گیا، ایران کے 90 فیصد میزائل اور ڈرونز کو ناکارہ بنایا گیا، اور ایران کے 140 سے زائد بحری جہاز تباہ کیے گئے۔ ان کے مطابق یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد کسی نیوی کو پہنچنے والا سب سے بڑا نقصان ہے۔

ترجمان نے کہا کہ اگر ایران نے شکست نہیں مانی تو مزید سخت حملے کیے جائیں گے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دھمکیاں نہیں لگاتے، ایران کو کسی غلط اندازے میں نہیں رہنا چاہیے۔

کیرولین لیوٹ نے کہا کہ گزشتہ بار غلط اندازے کی وجہ سے ایران کی قیادت، نیوی اور ایئر فورس کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا، اور اب جنگ اس لیے ہو سکتی ہے کیونکہ ایران سمجھنے سے انکاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنگ ختم ہونے پر عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔

ترجمان سے جے ڈی وینس کے دورہ پاکستان اور ایرانی حکام سے ملاقات کے بارے میں سوال کیا گیا، جس پر ان کا کہنا تھا کہ صورتحال ابھی غیر مستحکم ہے، اور کسی بھی ملاقات کو وائٹ ہاؤس کے باضابطہ اعلان سے قبل حتمی نہ سمجھا جائے۔ ایران سے متعلق بات چیت میں جے ڈی وینس شامل رہے ہیں، مگر مزید تفصیلات نہیں بتائی جا سکتیں۔

یہ بھی پڑھیں : انتظار کی گھڑیاں ختم، پی ایس ایل 11 کا میدان آج سجے گا

کیرولین لیوٹ نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ فوجی کارروائی سے پہلے سفارت کاری کو اولین آپشن سمجھتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو ایران کو 20 گنا زیادہ شدید حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور تمام آپشنز بدستور میز پر موجود ہیں۔

مزید براں ترجمان نے بتایا کہ امریکی صدر کی چینی صدر ژی جن پنگ سے بیجنگ میں ملاقات 14 اور 15 مئی کو متوقع ہے، جبکہ چینی صدر کے اس سال واشنگٹن دورے کی حتمی تاریخ کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

Scroll to Top