امریکا کی جانب سے جنگ بندی کی تجاویز موصول ہونے کے بعد ایران نے پالیسی بیان جاری کرتے ہوئے نہ صرف اس تجویز کو مسترد کر دیا بلکہ فوری مذاکرات کے امکان کو بھی رد کر دیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ جنگ بندی کا فیصلہ صرف ایران کی شرائط پر ہوگا اور اس سے پہلے کسی قسم کے مذاکرات ممکن نہیں۔ انہوں نے امریکی تجویزکو غیر متوازن اور حد سے زیادہ مطالبات پر مبنی قرار دیا۔
عہدیدار کا کہنا تھا کہ ایران خود فیصلہ کرے گا کہ جنگ کب اور کیسے ختم ہوگی، اور جب تک اس کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، فوجی اور دفاعی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ایران کی جانب سے امریکی تجویز کے جواب میں پانچ اہم شرائط پیش کی گئی ہیں:
ایران پر حملے اور ٹارگٹ کلنگ فوری طور پر بند کی جائے
مستقبل میں کسی بھی جارحیت نہ ہونے کی ٹھوس ضمانت دی جائے
جنگ کے دوران ایران کو ہونے والے نقصانات کا معاوضہ ادا کیا جائے
مشرق وسطیٰ میں ایران کے اتحادی گروہوں کے خلاف کارروائیاں روکی جائیں
آبنائے ہرمز پر ایران کے اختیار کو تسلیم کیا جائے
یہ بھی پڑھیں : خطے میں بڑھتی کشیدگی، دنیا بڑے خطرے کی جانب بڑھ رہی ہے، اقوام متحدہ
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک اور ایرانی عہدیدار نے تصدیق کی تھی کہ پاکستان نے امریکا کی جنگ بندی تجویز ایران تک پہنچائی ہے، جبکہ ممکنہ مذاکرات کی میزبانی پاکستان یا ترکیہ کر سکتے ہیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایران کی ان شرائط پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔





