افغانستان، بھتہ خوری، کرپشن اور اخلاقی بدعنوانی کے الزام میں مولوی نوراللہ گرفتار
افغانستان کے محکمہ صحت میں عجب کرپشن کی غضب کہانی سامنے آگئی۔ افغانستان کے انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ ذرائع کے مطابق طالبان کی انٹیلی جنس ادارے نے وزارتِ صحت کے ایک اعلیٰ عہدیدار کو انتظامی بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔
افغان صحافی بلال سروری کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری تفصیلات میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وزارتِ صحت کے اسناد و روابط کے سربراہ اور وزیر کے خصوصی سیکرٹری مولوی نور اللہ کو پیسوں کے بدلے تقرریوں، نجی کمپنیوں سے بھتہ وصولی اور اخلاقی بدعنوانی کے الزامات پر حراست میں لیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق یہ معاملہ صرف مرکزی سطح تک محدود نہیں بلکہ صوبائی سطح پر بھی محکمہ صحت کے بعض اعلیٰ حکام اسی نوعیت کی بدعنوانی میں ملوث ہیں۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وزارت کے دائرہ کار میں ایسے ذمہ داران بھی موجود ہیں جن کے اہل خانہ بیرونِ ملک رہتے ہیں اور وہ افغانستان صرف آمدن حاصل کرنے کے مقصد سے آئے ہیں، جس کے باعث وسیع پیمانے پر انتظامی بدعنوانی کو فروغ ملا ہے۔
اسی دوران برطانیہ میں مقیم ڈاکٹر حدیداللہ ذاکری، جو وزارتِ صحت کے مشیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، پر غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ منصوبوں کی تقسیم میں بدعنوانی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ مولوی نور اللہ کی رہائی کے لیے وزیرِ صحت مولوی نور جلال جلالی نے کوششیں کیں، تاہم اب تک انہیں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔
صحافی بلال سروری کا دعوی ہے کہ آئندہ چند روز میں کچھ مزید افراد کی گرفتاری کا امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔





