خیبرپختونخوا میں رمضان پیکج کی سیاسی بنیادوں پر تقسیم کا معاملہ عدالت میں پہنچ گیا

رمضان پیکج کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر، فرانزک آڈٹ کا مطالبہ

خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کی جانب سے رمضان پیکج کی مبینہ غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں باقاعدہ درخواست دائر کر دی گئی ہے۔

یہ درخواست عثمان عالم ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں صوبائی حکومت، چیف سیکرٹری اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ رمضان پیکج کی تقسیم کے پورے عمل کی شفاف تحقیقات کا حکم دیا جائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔

درخواست میںموقف اختیار کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومت کا رمضان پیکج اصل مستحق افراد کے بجائے غیر مستحق لوگوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کا دعویٰ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ حکومت نے اربوں روپے کا یہ پیکج مبینہ طور پر اپنے سیاسی کارکنان میں بانٹا ہے اور امدادی پروگرام کے نام پر اپنے وابستگان کو براہِ راست مالی فائدہ پہنچایا گیا ہے، جس سے حقداروں کی حق تلفی ہوئی ہے۔

عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست کے مطابق رمضان پیکج کی تقسیم مکمل طور پر سیاسی بنیادوں پر کی گئی اور اس دوران بڑی تعداد میں مستحق افراد کو اس اہم ریلیف سے محروم رکھا گیا۔

درخواست میں یہ نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ اس تقسیم کا کوئی باقاعدہ پبلک ریکارڈ موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

درخواست گزار نے پشاور ہائیکورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ رمضان پیکج کی تقسیم کا فوری طور پر فرانزک آڈٹ کرایا جائے اور اس میں ملوث ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں : الیکشن کمیشن نے مراد سعید کو نااہل کردیا

استدعا کی گئی ہے کہ رمضان پیکج کے فنڈز میں خرد برد کرنے والوں اور بدعنوانی میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوامی پیسے کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے۔

Scroll to Top